محترم ابصار عالم کے مغالطے، عمر فاروق کا کالم
سال مجھے یاد نہیں لیکن زیادہ پرانی بات نہیں جب خبر چلی کہ ابصار عالم پر اسلام آباد کے ایک پارک میں جان لیوا حملہ ہوا۔ بفضلِ خدا وہ بچ گئے۔
لیکن بڑا نقصان یہ ہوا کہ یہ حملہ ابصار عالم کا مستقل تعارف بن گیا۔
ان پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہمیں افسوس ہے۔
اس کے بعد جلد ہی باجوہ صاحب ریٹائر ہو گئے۔ نئی فوجی قیادت کے ہاں بھی باجوہ صاحب زیادہ چہیتے نہیں رہے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کی نالائقی کی وجہ سے ادارے کو نقصان پہنچا۔
باجوہ صاحب نے ادارے اور عوام سے لعن طعن سمیٹنا شروع کی تو ابصار عالم بھی چلتی گاڑی پر سوار ہو گئے۔ ایک عدد کالم اپنے اور باجوہ کے بیٹے کے مابین مقابلے پر لکھ دیا۔ لکھا اور پھر مستقل اپنے ٹویٹر پر ٹانک دیا۔
ان کے بیٹے کے ساتھ غلط ہوا۔ ہمیں افسوس ہے۔
لیکن قوم کو اس کالم کا نقصان یہ ہوا کہ ابصار عالم انسانی حقوق کے داروغہ بن گئے۔
یہ دونوں واقعات اتنے چھوٹے نہیں کہ درگزر کر دیے جائیں۔ مگر اتنے بڑے بھی نہیں کہ ابصار صاحب ڈنڈا لے کر دنیا بھر کے پشتونوں کو اخلاقیات سیکھانے نکل پڑیں۔
مزاحمتی مزاج میں مزاحمت رچ بس جاتی ہے۔ ابصار صاحب کے ہاں ایسا نہیں ہے۔ وہ پارٹ ٹائم مزاحمت کے داعی ہیں۔ اچھے وقت میں وہ پیمرا وغیرہ کے سربراہ لگنے کو برا نہیں سمجھتے۔
اب پچھلے کچھ مہینوں سے جنہیں وہ نسل پرستی کے طعنے دے رہے ہیں میں نے انہیں ہمشہ مزاحمتی اقدار کے ساتھ جمے دیکھا۔
اس نسل پرستی والے الزام کو کھنگالا جائے تو کیا نکلے گا؟
یوں کہ جیسے کوئی امریکی گورا کسی کالے کو کہے کہ تم "بلیک لائیوویز مَیٹر” کا نعرہ لگاتے ہو تو تم نسل پرست ہو۔
اچھا۔ کیسے؟
اس لیے کہ تم نے "آل لائیووز میٹر” کا نعرہ کیوں نہ لگایا۔ اور یہ کہ تم اوبامہ اور کولن پاول کو گالیاں کیوں نہیں دیتے۔
ابے میں گالیاں دے بھی دوں تو کیا ہوا وہ کالے تمہارے ہی لگائے ہوئے ہیں۔ تمہارے ساتھ ان کا جوڑ زیادہ مضبوط ہے۔ میرا ان سے کیا لینا دینا۔ اب اس میں نسل پرستی کہاں سے نکل آئی۔
ابصار صاحب کو کوئی بتائے کہ نسل پرستی کبھی بھی طاقت کے سوا نہیں ہوا کرتی۔ کمزور قوم کے باشندے کیا خاک نسل پرست ہوں گے۔
پاکستان کے تناظر میں طاقتور اور نسل پرست پنجاب کے لوگ ہیں۔ جنہیں ابصار صاحب نسل پرستی کا درس دے رہے ہیں وہ تو کمزور قوم کے لوگ ہیں۔ جن کی طاقتور ریاست سے کل ملا کر ڈیمانڈ "امن غواڑو” ہے۔
پنجاب کا کوئی شخص کس اخلاقی قدر کے تحت کسی پشتون کو قوم پرستی یا نسل پرستی کا الزام دے سکتا ہے۔ شاباش ہے بھئی۔
پھر ابصار صاحب کو گلہ ہے کہ اگر خود کش دہشت گرد پشتون ہے تو فوراً ساری پشتون قوم کو رگید دو۔ اور سب پشتون باجماعت خود کو کوسیں۔ اس پر بھی مجھے نو گیارہ کے بعد امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کے حالات یاد آ جاتے ہیں۔
خیر، ہمیں یاد ہے جب پنجاب کے دوستوں کے ہاں طالبان اچھے اور برے ہوا کرتے تھے، ان پشتون جوانوں کے ہاں وہ تب بھی صرف برے ہوا کرتے تھے۔
اب جب پنجاب کے ہاں بھی یہ اچھے/برے کا فرق ختم ہو رہا ہے تو لازمی ہے کہ سنجیدہ پشتون تو آپ پر ہنسیں گے۔ یہ افسردہ ہنسی برداشت کیجیئے۔ پشیمان ہوں کہ آپ چالیس سال ایک مغالطے کا شکار رہے۔
پشتونوں کا یہ والا طبقہ تو کوئٹہ شوریٰ کے دور سے اپنے نظریات میں کلیئر تھا۔ آپ کی آنکھوں سے دھند ابھی چھٹی ہے۔ بھئی مختصراً یہ کہ ابصار صاحب کا یہ والا مقدمہ بھی شدید کمزور ہے۔
پھر ابصار صاحب کو شبہ ہے کہ یہ والا پشتون طبقہ بیرونی امداد پہ چل رہا ہے۔
اچھا؟
میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں جتنا ڈاکٹر تقی امریکہ کو ایک سال میں ٹیکس دیتے ہوں گے اتنا ابصار صاحب نے پیمرا چیئرمینی سے کل تنخواہ بھی وصول نہیں کی ہو گی۔ ہاں وہ جنرل فیض والے چینل اپروو کر دیتے تو شاید معاملات مختلف ہوتے۔
ویسے یہ تنخواہ والی بات کر کے میں نے بہت چھوٹی بات کی ہے۔ اس پر میں خود بھی شرمندہ سا ہو رہا ہوں لیکن اس لکھے کو مٹانا نہیں چاہتا۔
لہذا جانڑ دیووس۔
ایک اور گلہ ابصار صاحب کو یہ ہے کہ ناسمجھ پشتون ان کا موقف سمجھ نہیں رہے۔ مطلب کہ وہ پشتون اشرافیہ کی بات کر رہے ہیں کہ عام پشتون خاص پشتون کو گالیاں کیوں نہیں دے رہا۔ جنرل کاکڑ، یحیی، ایوب خان وغیرہ کو یہ نئے لبرل پشتون عاق کیوں نہیں کرتے۔
تو جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ والے پشتون گالیاں کسی کو بھی نہیں دیتے۔ یہ شدید پڑھے لکھے پشتون ہیں۔ انہوں نے ستر ہزار لوگ شہید کروا لینے کے بعد بھی گالیاں نہیں دیں۔ پورے کے پورے ٹبر ملک پاکستان کے لئے لٹا دینے کے بعد بھی گالی نہیں دی۔
جس نے صرف اونچے لہجے میں ایک تقریر کیا کر دی تھی وہ کے پی کے جیلوں سے ہوتے ہوئے سندھ کے ساری جیلیں بھی دیکھ چکا ہے لیکن پتہ آج تک نہیں چل سکا کہ اس پر مقدمہ کیا ہے۔ میں علی وزیر کی بات کر رہا ہوں۔
حاجی صاحب بلور آج کل شاید اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ ابصار صاحب کو چاہئیے ایک دن وقت نکال کر ان کے پاس جا بیٹھیں۔ مجھے پوری امید ہے انہیں سمجھ آ جائے گی کہ انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں۔ دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنے کی اصل قیمت کیا ہوتی ہے۔ ان کے خاندان پر کئے گئے حملے خطا کیوں نہیں ہوئے اور پاکستان کے اصل نسل پرست کون لوگ ہیں۔
صاحب تحریر کا تعارف:
عمر فاروق نے کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی سے ماسٹرز جبکہ پی آیچ ڈی یونیورسٹی آف کیلگری سے کی ہے۔
وہ کینیڈا کے انرجی منسٹر کے کنسلٹنٹ رہے۔ اور لیتھیئم ایکسپرٹ ہیں۔

