کالم

قائداعظم سے بابر اعظم تک کا ٹیلنٹ، کامران طفیل کا کالم

فروری 28, 2026

قائداعظم سے بابر اعظم تک کا ٹیلنٹ، کامران طفیل کا کالم

معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ یہ سن سن کر کان پک چکے ہیں کہ پاکستان میں بہت ٹیلنٹ ہے،لیکن یہ بات بھی مطالعہ پاکستان کی طرح بالکل فیبریکیٹڈ ہے۔
پوری سیاسی لیڈرشپ،خاکی و سول بیوروکریسی میں آج تک ایک بندہ بھی نظر نہیں آیا جو وژنری ہو۔
آپ کو ایک ایک کر کے گنواتا ہوں۔

قائدآعظم یعنی سب سے بڑے قائد اس وقت حیران رہ گئے جب انہیں یہ پتہ چلا کہ مسلمان ہندوستان کے مختلف حصوں سے ہجرت کرکے پاکستان نامی نئے ملک میں آ رہے ہیں،ان کے اندازے کی اس غلطی سے دس لاکھ لوگ مارے گئے۔
وہ اس قدر ذہین انسان ثابت ہوئے کہ یہ بھی نہ دیکھ پائے کہ مغربی اور مشرقی پاکستان کبھی بھی ایک فیڈریشن کے طور پر نہیں رہ سکتے۔

پھر ہماری لیڈرشپ آگئی ایوب خان کے ہاتھ جنہوں نے پاکستان کو دو لخت کرنے کی بنیاد رکھی۔انہوں نے ہی وہ ٹیڑھی بنیاد رکھی جس پر آج کا موجودہ پاکستان پیسہ ٹاور بنا ہوا ہے۔
یہاں سے قیادت ملتی ہے آغا یحیی خان کو جنہوں نے اداکارہ ترانہ کو قومی ترانے کا درجہ دے دیا،الیکشن کروائے اور اقتدار جیتنے والے کے حوالے نہ کیا،وژن کا یہ حال تھا کہ اتنا نہیں جان سکے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔

پھر آگئے ماؤ کیپ پہنے ہوئے سندھ کے ایک جاگیردار،جن کی عقل بس اتنی تھی کہ صنعتیں قومیا لی جائیں اور ستتر کے الیکشن میں جیتنے کے تمام تر امکانات کے باوجود سیاسی مخالفین کو اغوا کروا کر بلامقابلہ منتخب ہوجایا جائے، جذباتی ذہانت اتنی تھی کہ اپنے ہی ہاتھ سے چنے ہوئے ایک نااہل چیف آف دی آرمی سٹاف کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد بالکل عمران خان بن گئے اور معاملہ طے کرنے اور الیکشن لینے کی بجائے اس کی مونچھوں سے تسمے بنوانے کہ دھمکی لگاتے رہے۔

پھر آتے ہیں مرد مومن مرد حق،افغانستان کی جنگ کو پاکستان لائے،ملا کا عفریت قوم پر چھوڑا،منشیات اور اسلحے کی اماجگاہ بنایا،غیر سیاسی انتخابات کے ذریعے برادری ازم کو فروغ دیا،مذہبی جنون پیدا کیا،موصوف کا وژن اتنا بھی نہیں تھا کہ جان سکتے کہ اس کا لانگ ٹرم نقصان کیا ہوگا۔آج تک ان کے ابھارے ہوئے علما و مشائخ اس قوم کی ایک لائبیلیٹی ہیں۔
لیجئیے صاحب بھٹو کی بیٹی اور ضیا کے بیٹے کی کشمکش شروع ہوگئی،وہ اقتدار سے اترا تو ہے جمالو اور وہ اقتدار سے اتری تو بھنگڑا،عقل اتنی کم کہ اندازہ ہی نہیں کرسکے کہ کن کی گیم کھیل رہے ہیں۔

بھٹو کی بیٹی اور ضیا کے بیٹے نے قوم کے سینے میں آئی پی پیز کا ایسا خنجر گھونپا کہ آج تک خون بھل بھل بہہ رہا ہے۔
وژن تھا ہی نہیں تو کیسے دیکھتے کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟
مشرف کا وژن جاننا چاہتے ہیں تو کارگل دیکھ لیں،اپنے فوجیوں کو خوراک نہیں پہنچا سکا اور برصغیر کا امن مستقل برباد کر گیا،جس کا حل ہی نہیں نکل پا رہا۔

پھر آتے ہیں پاکستان کے مستقل غاصبوں کی ایجاد احمق الحمقا عمران خان، خدا کی پناہ، طالبان کے دفتر کھولو، رحونیت کو فروغ دو، بنی گالہ کی چھت پر گوشت پھنکواؤ، کتے سے گفتگو کرو۔

ان کا اندھا دھند وژن ان کو اب بھی جیل میں رکھے ہوا ہے۔
جہالت کا یہ عالم ہے کہ دنیا میں تیل مہنگا ہوا تو قدرتی گیس کے سو سال تک کے ذخائر کو پانچ سال میں ختم کردیا، بجلی بنا لی لیکن ترسیل کا انتظام نہیں کیا۔

اب کر لیتے ہیں کرکٹ کی بات، ٹی20 نیا فارمیٹ ہے، اس میں بس امپرووائزیشن کرنے والے ہی کامیاب ہوسکتے ہیں۔
سٹریٹ بیٹ سے کھیل کر تیز سکور نہیں ہوسکتا، فاسٹ باؤلر ایک پیس سے بال کرکے رنز نہیں روک سکتا، اسے سلو بال، آف کٹر، لیگ کٹر کرنے ہوتے ہیں، اب امپروئزیشن نسیم شاہ تو کر رہا ہے لیکن شاہین شاہ نہیں، صاحبزادہ فرحان تو کر رہا ہے بابر آعظم نہیں، آپ نے سری لنکا کے خلاف شاداب کا آخری اوور دیکھا؟ کلب لیول پر بھی اتنی بری باؤلنگ نہیں کروائی جاتی۔
وژن ہے ہی نہیں کہ اس فارمیٹ میں کیا درکار ہے۔

بھارت نے کوہلی کو باہر بٹھا دیا کیونکہ وہ ویسی شاٹس نہیں لگا سکتا جو اس فارمیٹ میں درکار ہیں۔

یاد رکھیں دنیا میں ایک ہی چیز مستقل ہے اور وہ ہے تبدیلی، اپنے آپ کو تبدیل کئے بنا اور اڈاپٹیبلیٹی کے بنا کوئی کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے