عمران خان کے بیٹے کا اقوام متحدہ کی کونسل میں خطاب کیا واقعی پاکستان مخالف تھا؟
عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کی ہے- اس دوران اُن کی تصاویر اور قاسم خان کے خطاب کی ویڈیوز پاکستان میں سوشل میڈیا پر شیئر کر کے مختلف الزامات عائد کیے جا رہے ہیں-
عمران خان کے بیٹوں اور ذلفی بخاری کی جنیوا میں مختلف طبقہ فکر اور ملکوں کی شخصیات سے ملاقاتوں کی تصاویر کو بھی اُن کے خلاف الزامات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے-
ان میں سے ایک تصویر یورپ میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم بلوچ کی ہے جو سیشن میں قاسم خان کے بائیں جانب بیٹھے ہیں-
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے تھرسڈے ٹائمز نامی نے ایک ہینڈل سے لکھا گیا کہ:
’عمران خان کے بیٹے، قاسم خان، ایک کانفرنس میں شریک ہوتے ہیں تاکہ ‘انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں’ ، خصوصی طور پر ان کے والد کی قید کے حوالے سے، کو مدنظر رکھتے ہوئے یورپی یورپی یونین سے پاکستان کی GSP+ حیثیت کو ختم کیا جا سکے۔‘
قانون دان اور تجزیہ کار ریما عمر نے اس پر لکھا کہ یہ مخصوص کلپ ’پاکستان کی GSP+ حیثیت ختم کرنے کے کانفرنس‘ سے نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے تحت آئٹم 9 کی جنرل ڈیبٹ یعنی عمومی نوعیت کی بحث سے لیا گیا ویڈیو کلپ ہے۔ قاسم خان پاکستان میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور سیاسی انتقام کے بارے میں بات کرتے ہیں (دیگر خدشات کے ساتھ، جن میں سے کچھ حقائق کے لحاظ سے غلط ہیں) اور کونسل سے پاکستان پر زور دینے کی درخواست کرتے ہیں کہ وہ انتقام کا خاتمہ کرائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔ GSP+ کا ذکر نہیں کیا گیا۔‘
تھرسڈے ٹائمز نامی اکاؤنٹ سے ایک اور ٹویٹ بھی کی گئی- اس بار ویڈیو کے ساتھ لکھا گیا کہ:
’بلوچ نیشنل موومنٹ کے راہنما ڈاکٹر نسیم بلوچ کے ساتھ بیٹھے قاسم خان (عمران خان کے بیٹے) نے پاکستان میں مبینہ ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے یورپی یونین سے پاکستان کی GSP پلس حیثیت ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ تاہم بطور مثال وہ صرف اپنے والد عمران خان (سابق وزیراعظم) کی قید ہی پیش کر سکے۔‘
اس پر ریما عمر نے ری پوسٹ کر کے لکھا کہ ’یہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی سائیڈ لائن sidelines میں کی گئی ایک تَقرِیب ہے جس میں پاکستان کی انسانی حقوق کی صورتحال کا بین الاقوامی معاہدے اور GSP+ کی روشنی میں جائزہ لیا گیا-‘
ریما عمر نے پوسٹ کرنے والے اکاونٹ سے پوچھا کہ ’کیا قاسم خان نے اپنی تقریر میں GSP+ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا؟ وہ کلپ بھی شیئر کریں کیونکہ اس کلپ میں وہ GSP+ کی ذمہ داریوں کا حوالہ ضرور دیتے ہے لیکن معطلی کا مطالبہ نہیں کرتے-‘
قانون دان و تجزیہ کار نے مزید لکھا کہ ’بلکہ اُن سے پہلے زلفی بخاری نے بات کی اور کہا کہ پاکستان کے GSP+ اسٹیٹس کو معطل یا منسوخ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے عام پاکستانیوں کو نقصان ہوگا-‘
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے تحریک انصاف کے رہنما ذلفی بخاری کے ہمراہ سیشن سے خطاب کیا- انہوں نے خطاب کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’آج، مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میں ان 47 ممالک سے خطاب کروں جو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں شامل ہیں، اور اپنے والد عمران خان اور پاکستان کے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کروں۔ اس کے ساتھ، میں یہ بات بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں اپنے والد کی طرح پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کے برقرار رہنے کی مکمل حمایت کرتا ہوں کیونکہ پاکستان کے عوام کو اپنے رہنماؤں کے اعمال کی وجہ سے کبھی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ لیکن پاکستانی حکومت پر بھی لازم ہے کہ وہ ان 27 معاہدوں کی مکمل پاسداری کرے جن پر اس نے اس فائدے کے حصول کے لیے اتفاق کیا تھا، بشمول بین الاقوامی شہری و سیاسی حقوق سے متعلق معاہدہ اور تشدد کے خلاف کنونشن۔‘
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے 61 ویں اجلاس میں پی ٹی آئی کے رہنما ذلفی بخاری نے پاکستان کے جی ایس پی پلس GSP+ سٹیٹس کے جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا-
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سٹیٹس یا حیثیت کو معطل کرنا لاکھوں افراد یعنی پاکستانی شہریوں یا کاروباری افراد کو نقصان پہنچائے گا- ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طریقے سے انسانی حقوق کی نگرانی کا ایک فریم ورک یورپی یونین نے بنایا ہے وہ پاکستان میں ختم ہو جائے گا-

