کالم

ایران اور علامتی اظہاریہ، محمد حسنین اشرف کا کالم

مارچ 26, 2026

ایران اور علامتی اظہاریہ، محمد حسنین اشرف کا کالم

ایران پر گفتگو سے قبل یہ توضیح شاید لازم ہو جاتی ہے کیونکہ کچھ ہی دیر میں بزعم خویش بہت زیادہ آزاد اور انسانیت کے ہمدرد کچھ ویڈیوز اور سوالات سمیت پہنچ جائیں گے۔ سو ان کے درد کا درمان ابھی سے کر دینا بہتر ہے۔

اگر بات یہ ہو کہ ایران کے عوام (خصوصا وہ جو حجاب اجباری کے خلاف کھڑے ہیں) اور ایران کی حکومت میں سے کس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تو میں خاموشی سے اٗس صف میں بہت پیچھے احتراما کھڑا ہوں گا جس کا ہر اول دستہ ترانہ علیدوستی جیسے لوگ ہیں۔

اگر سوال یہ ہے کہ ایران اور استعمار کی کشمکش میں مجھے کیا محسوس کرنا ہے تو میں خامنائی صاحب کے خاندان سمیت چلے جانے اور لاریجانی صاحب کے اپنی بہن کے گھر شہید ہونے کو شہادت کہوں گا اور اس کا غم منانا استعمار کے دہرے جبر کے سامنے بغاوت کی ادنی سی کوشش تصور کروں گا۔

جہاں تک تعلق ہے کہ جنگ یا جنگیں ہونی چاہییں؟ یہ نہایت بیکار سوال ہے، کوئی احمق ہوگا جو یہ چاہے گا کہ "بلاوجہ” جنگ ہو اور وہ گھر بار کا سکھ چھوڑ کر اپنے آپ کو اس مشکل میں ڈال دے۔
اس بات کو نظر انداز کیے بغیر کہ کسی خاص خطے میں جنگ کیوں ہو رہی ہے اور اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے۔ یہ سوال صرف اخلاقی دھونس جمانے کو باقی رہ جاتا ہے۔

رہا یہ سوال کہ ایران کو کیا کرنا چاہیے؟ تو اصولی طور پر یہ سوال میرے لیے نہیں۔ یہ سوال ایرانی حکومت اور عوام کے لیے ہے، میری ایران کے مسئلے میں نہ تو کوئی جذباتی وابستگی ایسی ہے جیسی ایرانیوں کی ہوگی، یا ایسی، جیسی ایسے مسائل میں فیصلہ کرنے کو درکار ہوتی ہے اور نہ میرے تاریخی شعور میں ایسی کوئی یاد وابستہ ہے جو مجھے اس مسئلے کے درست ادراک کے لیے ضروری وسائل فراہم کر سکے۔
وہ اگر ہتھیار ڈالنا چاہیں گے یہ تب بھی اٗن کا فیصلہ ہے اور اگر وہ لڑنا چاہیں گے یہ تب بھی اٗن کا فیصلہ ہے۔ میں معقولیت کے اپنے پیمانے اٗن پر لاگو نہیں کرسکتا اور نہ میں اس نرگسیت کے مارے ہوئے رویے کو درست سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ جو اس مسئلے کا شکار ہیں، میں باہر سے بیٹھ ان سے زیادہ عقل مند ہوں اور زیادہ بہتر فیصلے کرسکتا ہوں۔
جن کا تاریخی شعور ہے وہی بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں میں باہر بیٹھ کر یہ دیکھ سکتا ہوں کہ کن لوگوں کے ساتھ تاریخ میں زیادتی ہوئی ہے اور کن کے ساتھ وہی جبر ہو رہا ہے جو اس خطے میں بارہا ہوا ہے۔ میرے لیے ایران کا یہ مسئلہ خمینی صاحب کی بجائے چرچل — مصدق اور اس سے پہلے شروع ہوتا ہے۔

اس کے بعد میرے جیسے آدمی کے لیے جو باہر بیٹھا ہے، یہ صرف ایک علامتی اظہار ہے۔ جیسے میں بھگت سنگھ، سکھدیو تھاپڑ اور شیورام راج گرو کے نام احتراما لیتا ہوں اور انہیں استعمار کے خلاف بغاوت کی ایک علامت تصور کرتا ہوں باوجودیکہ ان کی یہ بغاوت برصغیر کے پورے منظر نامے میں ایک ناکام اور چھوٹی سی کوشش ہے۔ میرے لیے اس چھوٹی سی کوشش کا کینوس بہت بڑا، رنگین اور خوبصورت ہے۔ میں کبھی بھی نہیں چاہوں گا کہ بھگت سنگھ کی اس علامت کو زمینی حقائق سے جوڑ جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کروں، یہ علامت بہت دور کھڑی زمینی حقائق کا منہ چڑا رہی ہے اور چڑاتی رہے گی!

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے