کالم

تہوار، اوٹ پٹانگ اظہار، بے ہنگم رقص اور ڈیجیٹل کارنیوال

مارچ 26, 2026

تہوار، اوٹ پٹانگ اظہار، بے ہنگم رقص اور ڈیجیٹل کارنیوال

تحریر: علی ارقم

اپنے اردگرد کے سماجی رویّوں اور تعصبات کو سمجھنے کے لیے بعض اوقات چند واقعات اور عمومی حرکات پوری تہذیبی اور نفسیاتی پیچیدگیوں کو کھول کر سامنے رکھ دیتی ہیں۔

سوات کے کانجو ٹاؤن شپ میں عید کے موقع پر نظر آنے والا منظر بھی ایسا ہی تھا۔ نوجوانوں کی ٹولیاں، ایک ہی رنگ کے کپڑوں اور یکساں واسکٹ میں ملبوس، گروہوں کی صورت میں گھومتی پھرتی، ایک ہی گاڑی کے ساتھ باری باری تصاویر بناتی، سڑک کے اطراف پائن کے درختوں کے بیچ شور مچاتی، موٹر سائیکل اور کاریں دوڑاتی، گاڑیوں کی کھڑکیوں سے لٹکتی، سن روف سے نکل کر چیختی چلاتی—ایک ایسی فضا پیدا کر رہی تھیں جس میں جوش کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی ناخوشگواری بھی شامل تھی۔

پھر مختلف شہروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آنے لگیں: پارکس اور پبلک مقامات پر اجتماعی کیفیت میں بے ہنگم رقص، پشاور میں ایک ہوٹل کے باہر خواتین کی گاڑی کے گرد جمگھٹا، چنگچی رکشوں سے لٹکتے، مہران کار کی چھت پر بیٹھے، سڑکوں پر مضحکہ خیز حرکات کرتے نوجوان۔ ان سب کے انداز میں ایک طرح کی وحشت آمیز بے نیازی تھی، نہ وہ اردگرد کے ماحول سے جڑے دکھائی دیتے ہیں، نہ اس بات کی کوئی پرواہ کہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں۔

وہ نہ کسی واضح مخاطب کے لیے پرفارم کر رہے تھے، نہ ہی انفرادی شناخت یا اظہار کی کسی سنجیدہ جستجو میں نظر آتے تھے؛ بلکہ ایک ایسی کیفیت میں تھے جہاں گروہ ہی ان کی واحد شناخت بن چکا تھا۔ یہ منظر اب کسی ایک شہر یا علاقے تک محدود نہیں رہا، بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہر طرف پھیل چکا ہے۔

اس مظہر کو سمجھنے کیلئے میں نے پچھلے سال ایک تحریر میں “کارنیوالسک” (Carnivalesque)کے تصور کا حوالہ دیا تھا، جسے میخائیل باختین (Mikhail Bakhtin) نے پیش کیا، باختین ایک روسی فلسفی اور ادبی نقاد تھے، جنہوں نے ثقافتی مظاہر کے ذریعے سماجی طاقت اور اظہار کے تعلقات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق کارنیوال ایک عارضی سماجی کیفیت ہوتی ہے جس میں روایتی ضابطے معطل ہو جاتے ہیں اور ایک “الٹی دنیا” وجود میں آتی ہے، جہاں ہنسی، جسمانی اظہار اور بے ساختہ پن کے ذریعے لوگ وقتی آزادی کا تجربہ کرتے ہیں، جیسے تہواروں اور میلوں کے موقع پر انفرادی اور اجتماعی مظاہر، شادی بیاہ میں رقص وغیرہ

مگر موجودہ دور میں، جب ٹک ٹاک اور انسٹاگرام ریلز (TikTok, Instagram Reels) جیسے پلیٹ فارمز پر وائرل کلچر (Viral Culture) اور مونیٹائزیشن (Monetization) کا رجحان غالب ہے، یہ کارنیوال اپنی عارضی حیثیت کھو کر ایک مستقل شکل اختیار کر چکا ہے، جسے ہم “ڈیجیٹل کارنیوال” (Digital Carnival) کہہ سکتے ہیں۔ یعنی ایک ایسا ماحول جہاں سوشل میڈیا کی بدولت ہر لمحہ ایک ممکنہ پرفارمنس اور ہر اظہار کا ٹینٹ، چاہے وہ جسمانی اعضاء کی نمائش ہو، تشدد کا ایکٹ ہو یا سماجی تمسخر

سڑک، بازار اور پارک اب صرف گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ غیر رسمی “اسٹیج” بن چکی ہیں، جہاں اظہار کسی خاص موقع کا محتاج نہیں رہا۔

اس ڈیجیٹل کارنیوال میں اختیار کیے گئے رویّے اکثر شعوری منصوبہ بندی کے بجائے “میمیٹک بیہیویئر” (Mimetic Behavior) کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ میمیٹک بیہیویئر سے مراد اندھی یا لاشعوری تقلید ہے، جس میں افراد دوسروں کو دیکھ کر وہی حرکات دہراتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کے پیچھے کوئی واضح مقصد یا معنویت ہو۔

یہ نقالی ایک نئے مظہر کو جنم دیتی ہے جسے “میمیٹک کارنیوالسک” (Mimetic Carnivalesque)کہا جا سکتا ہے
یعنی ایسا اجتماعی اظہار جو تخلیق یا بغاوت کے بجائے محض نقل کے ذریعے پھیلتا ہے۔

نفسیاتی سطح پر اس عمل میں “ڈی انڈیویجوئیشن” (Deindividuation) اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ فرد گروہ میں شامل ہو کر اپنی انفرادی شناخت، خود احتسابی اور ذاتی ذمہ داری کا احساس کھو دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ ایسے رویّے اختیار کر لیتا ہے جو وہ اکیلے میں شاید کبھی نہ کرے۔

یہ کیفیت آگے بڑھ کر “اجتماعی بیگانگی” اور خود سے لاتعلقی میں بدل جاتی ہے، جہاں فرد نہ صرف دوسروں سے بلکہ اپنی ذات سے بھی ایک جذباتی فاصلہ اختیار کر لیتا ہے۔ اس گروہی ٹرانس یعنی بیخودی کی حالت میں سب مشترکہ ردھم اور حرکت میں ڈوب جاتے ہیں۔ وہ اپنے ہی دائرے میں اس قدر مگن ہوتے ہیں کہ انہیں بیرونی دنیا کا شعور نہیں رہتا۔ اس حالت میں پیدا ہونے والی توانائی میں شدت تو ہوتی ہے مگر سمت نہیں۔ یہ توانائی کسی بامعنی یا تخلیقی اظہار کے بجائے بے ربط حرکات میں تحلیل ہو جاتی ہے۔

تاہم اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ بعض مواقع پر یہی رویّے دوسروں کے لیے اذیت، خوف یا عدم تحفظ کا باعث بنتے ہیں، خصوصاً جب خواتین یا کمزور افراد اس کا نشانہ بنتے ہیں۔
۔ یہاں ”مائیکرو ایگریشن “(Micro-aggression) کا تصور سامنے آتا ہے، جسے ڈیرالڈ ونگ سو (Derald Wing Sue) نے واضح کیا

مائیکرو ایگریشن سے مراد وہ بظاہر معمولی حرکات یا جملے ہیں جو درحقیقت کسی فرد کو اس کی کمزور یا سماجی طور پر پیرفریز پر ہونے کی حیثیت کا احساس دلاتے ہیں۔

جیسے حمزہ محسود نے ایک واقعہ لکھا،

گزشتہ روز چشمہ روڈ پر گزر رہا تھا کہ ایک موٹر کار روڈ کنارے رکی ۔ کار میں بیٹھی تمام سواریاں اُتریں٬ پشتو کی بجائے دوسری زبان میں باتیں بھی کررہے تھے اور ایک بوڑھی خاتون قے کررہی تھی۔ وہ بیچارے اس بزرگ خاتون کو سنبھالنے میں لگے تھے کہ اسی دوران پشتون نوجوانوں سے بھرا ہوا چنگچی رکشہ گزرنے لگا مگر ان نوجوانوں نے جس طرح کی آوازیں کسیں٬ اس کی اجازت کوئی بھی مذہب ٬ رواج٬ گھرانہ یا معاشرہ نہیں دے سکتا

عوامی مقامات پر جملے بازی، تمسخر یا طنزیہ آوازیں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، جہاں ہنسی محض ہنسی نہیں رہتی بلکہ ایک علامتی طاقت میں بدل جاتی ہے۔ خاص طور پر ایسے معاشروں میں جہاں خواتین کی پبلک سپیس میں موجودگی محدود رہی ہو، وہاں ان کی موجودگی خود ایک “واقعہ” بن جاتی ہے اور یہی غیر معمولی حیثیت انہیں پیسیو ایگریسیو رویّوں کا نشانہ بنا دیتی ہے

اسے پیری بوردیو کے علامتی تشدد یا سمبالک وائیلنس سے بھی بھی سمجھا جاسکتا ہے، جس سے مراد وہ غیر مرئی جبر ہے جو زبان، رویّوں اور سماجی بیانیوں کے ذریعے نافذ ہوتا ہے۔

یوں اس پورے منظرنامے میں کئی سطحیں بیک وقت متحرک ہیں۔ ایک طرف نوجوانوں کی اجتماعی بے خودی، میمیٹک تقلید اور بے سمت توانائی ہے، اور دوسری طرف معاشرے کا ردعمل، جو بعض اوقات خود تعصب اور تحقیر میں بدل جاتا ہے۔

ان سب کے بیچ ایک گہرا “سماجی خلا” (Social Vacuum) موجود ہے، یہ خلا دراصل اس بڑے سماجی تغیر کی طرف اشارہ کرتا ہے جس سے ہمارا معاشرہ گزر رہا ہے۔ ایک طرف روایتی ڈھانچے کمزور ہو چکے ہیں، اور دوسری طرف جدید سماجی و ثقافتی ادارے ابھی تک کوئی بامعنی متبادل فراہم نہیں کر سکے۔ نتیجتاً نوجوان نسل ایک ایسی درمیانی کیفیت میں کھڑی ہے جہاں شناخت واضح نہیں، اظہار کے راستے غیر منظم ہیں، اور “معنی” کی جگہ “تجربہ” نے لے لی ہے۔ سوشل میڈیا اس عمل کو مزید تقویت دیتا ہے، جہاں وائرل کلچر شعوری خواہش کے بجائے ایک غیر شعوری تقلید میں تبدیل ہو جاتا ہے، لوگ ویسا ہی کرنے لگتے ہیں جیسا وہ دیکھتے ہیں

اہم بات یہ بھی ہے کہ اس رجحان کو نسلی یا لسانی بنیادوں پر دیکھنا نہ صرف غلط ہے بلکہ ایک اور سطح کی ناانصافی کو جنم دیتا ہے۔ اگر عوامی مقامات پر نوجوانوں کا یہ طرزِ عمل قابلِ تنقید ہے تو اسی طرح عید کے دنوں میں سیاحتی مقامات (جیسے سوات کی سڑکوں پر پختونخوا اور پنجاب کے دیگر شہروں سے آنے والے) سیاحوں کا بے ہنگم ہجوم، گاڑیوں کی لمبی قطاریں، ٹریفک کا گھنٹوں جام رہنا، اور مقامی آبادی کے لیے شدید مشکلات پیدا کرنا بھی کسی طور کم تکلیف دہ نہیں۔ مگر یہاں ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے: چونکہ یہ رویہ ایک نسبتاً “متمول” یا “شہری” طبقے سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے اسے وہی سماجی مذمت یا سٹیرو ٹائپنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، جو پارکوں یا سڑکوں پر نظر آنے والے نوجوان گروہوں کو ہوتا ہے۔ یوں مسئلہ صرف رویّے کا نہیں رہتا بلکہ اس کی تعبیر میں شامل طبقاتی اور سماجی تعصبات کا بھی ہو جاتا ہے۔

اس لیے اس سب کو صرف اخلاقی مسئلہ بنا دینا یا اسے کسی خاص لسانی یا نسلی شناخت کے ساتھ جوڑ دینا دراصل مسئلے کی اصل نوعیت کو دھندلا دیتا ہے۔ یہاں ضروری ہے کہ ہم اس رویے کو ایک وسیع تر سماجی اور نفسیاتی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ ایک کثیر الجہتی سماجی فنامنا (Social Phenomenon) ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس بیگانگی کو سمجھیں، یہ بیگانگی صرف فرد اور معاشرے کے درمیان نہیں بلکہ فرد اور اس کی اپنی ذات کے درمیان بھی ہے۔ ایسے سماجی و ثقافتی مواقع پیدا کیے جائیں جہاں یہ بے سمت توانائی بامعنی سمت اختیار کر سکے، جہاں اظہار محض شور نہ رہے بلکہ شعور میں ڈھل سکے۔

کیونکہ آخرکار مسئلہ اظہار کا نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں موجود خلا، اس کی سمت، اور اس کے انسانی اثرات کا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے