’شکی مزاج پھوپھو‘ پکارنے پر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے عاشر عظیم کو ’ملک سے فرار‘ یاد کرایا
پاکستان کی بین الاقوامی شہرت یافتہ سکالر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کو پاکستان چھوڑ کر کینیڈا میں پناہ لینے والے سابق بیوروکریٹ اور اداکار عاشر عظیم گل نے ’شکی مزاج پھوپھو‘ پکارا جس پر انہوں نے جواب میں آئی ایس پی آر کے ساتھ مل کر فلمیں بنانے والے ڈائریکٹر کو ’ماضی‘ یاد کرایا ہے-
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے ایکس پر عاشر عظیم کو لکھا کہ ’مسٹر گل! کاش آپ نے بھی نوٹس رکھے ہوتے تاکہ خود کو یاد دلاتے جب آپ نے مجھے اپنے خراب سے یوٹیوب چینل کے لیے انٹرویو کیا اور بلوچستان میں فوج کے مال بنانے اور ان کے کرپٹ ہونے کے بارے میں بات کی۔ اُس وقت آپ کا فوج کے ساتھ کچھ ذاتی جائیداد کا مسئلہ تھا۔ میرے فوج کے ساتھ کاروباری مسائل نہیں، میں صرف ایک سکالر ہوں جس کا کام نوٹس رکھنا اور عقلی یا مالیاتی طور پر بدعنوان نہ ہونا ہے، جیسا کہ آپ کا معاملہ ہے۔‘
انہوںے عاشر عظیم کو مزید لکھا کہ ’آپ نے بدعنوانی کے الزامات کے بعد ملک چھوڑ دیا، یا ایک پھوپھو کے لیے یہ یاد رکھنا بہت مشکل ہے؟‘
سابق اداکار نے عائشہ صدیقہ پر طنز کرتے ہوئے ٹویٹ کی تھی کہ ’ہر خاندان میں نوٹس رکھنے کے لیے ایک شک کی حامی پھوپو ہوتی ہے۔‘
یہ معاملہ اُس وقت شروع ہوا جب ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کے بیان کو پوسٹ کر کے لکھا کہ ’اسلام آباد ابھی بہت مصروف ہے ورنہ کوئی نہ کوئی نوٹس بنا رہا ہوتا کہ یہ ‘سٹریٹجک پارٹنر‘ کیا کہہ رہا ہے۔‘
خیال رہے کہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے پاکستان کے ماضی کے بارے میں بیان جاری کیا تھا-
بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ
بیان کا ترجمہ یہ ہے:
”پچیس مارچ 1971 کو یوم نسل کشی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ میں یومِ نسل کشی کے موقع پر تمام شہداء کو دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ آزادی پسند بنگلہ دیش کی تاریخ میں 25 مارچ 1971 کا دن سب سے ذلت آمیز اور سفاکانہ دنوں میں سے ایک ہے۔ اس تاریک رات میں پاکستانی قابض افواج نے ’’آپریشن سرچ لائٹ‘‘ کے نام سے بنگلہ دیش کے نہتے عوام کے خلاف تاریخ کی سب سے گھناؤنی نسل کشی کی۔ انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی، پِلخانہ اور راجرباغ پولیس لائنز سمیت مختلف مقامات پر اساتذہ، دانشوروں اور معصوم شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس میں کئی لوگ مارے گئے۔
مارچ 25 کی نسل کشی پہلے سے منصوبہ بند قتل عام تھا۔ اس منظم قتل و غارت گری کا مقابلہ کیوں نہ کیا جا سکا یہ اس وقت کی سیاسی قیادت کے مرئی کردار کے حوالے سے تاریخی تحقیق کا موضوع ہے۔ تاہم، 25 مارچ کی رات چٹوگرام میں 8ویں ایسٹ بنگال رجمنٹ نے ‘ہم بغاوت’ کا اعلان کرکے نسل کشی کے خلاف مسلح مزاحمت کا باقاعدہ آغاز کیا۔ نسل کشی کے خلاف اس مزاحمت کے ذریعے نو ماہ کی طویل مسلح آزادی کی جنگ کا آغاز ہوا۔ موجودہ اور آنے والی نسلوں تک آزادی کی اہمیت اور اہمیت کو پہنچانے کے لیے 25 مارچ کی نسل کشی کے بارے میں بھی جاننا ضروری ہے۔ آئیے ہم سب مل کر ریاست اور معاشرے میں عظیم جنگ آزادی کے جذبے یعنی مساوات، انسانی وقار اور سماجی انصاف کو قائم کرتے ہوئے شہداء کی قربانیوں کا احترام کرنے کی کوشش کریں۔
آئیے ہم ایک منصفانہ، ترقی یافتہ، خوشحال، خود انحصار اور جمہوری بنگلہ دیش کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام شہداء کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ 25 مارچ کو یوم نسل کشی کے موقع پر، میں اس دن کو منانے کے لیے منعقدہ تمام پروگراموں کی کامیابی کی خواہش کرتا ہوں۔

