پاکستان

بیرون ملک اپنا امیج بدلنے کی کوشش، پاکستان کے انگریزی چینلز میں‌ ’خُفیہ‘ کیا؟

مارچ 28, 2026

بیرون ملک اپنا امیج بدلنے کی کوشش، پاکستان کے انگریزی چینلز میں‌ ’خُفیہ‘ کیا؟

پاکستان کس طرح بیرون ملک اپنا امیج بدلنے کی کوشش کر رہا ہے؟ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ

پاکستان کی حکومت نے بیرون ملک اپنے امیج کو نئے سرے سے تشکیل دینے کے لیے ایک بڑی مہم کا آغاز کیا ہے اور یہ کوشش اب افغانستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع سے نمٹنے کے طریقہ کار میں واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔
یہ میڈیائی جارحیت یا پیش قدمی (media offensive) پاکستان کی اس نئی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد خود کو مغرب (بشمول صدر ٹرمپ) کے لیے ایک اہم شراکت دار اور خطے میں ایک سفارتی قوت کے طور پر پیش کرنا ہے۔

گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان کے سکیورٹی محکموں کے نمائندوں نے صحافیوں کو ریاست کے حامی یا دوستانہ انگریزی زبان کے نیوز آؤٹ لیٹس یا چینلز شروع کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ یہ معلومات اُن حکام اور صحافیوں کے مطابق ہیں جن سے ان منصوبوں کے لیے رابطہ کیا گیا تھا۔

اکتوبر میں پاکستان نے اپنے سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) نے اپنے انگلش چینل کو بھی نئے سرے سے پاکستان ٹی وی کے نام لانچ کیا۔ اس کا ایک ڈیجیٹل شعبہ بھی قائم کیا گیا- گزشتہ موسمِ خزاں میں پی ٹی وی کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ چینل کا نیا ڈیجیٹل شعبہ غیرملکی پراپیگنڈے کا مقابلہ کرے گا اور بیرون ملک پاکستان کے بیانیے کو فروغ دے گا۔

ان نئے میڈیائی آؤٹ لیٹس کے دو اہم اہداف رہے ہیں، انڈیا اور پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان حکومت۔ ان آؤٹ لیٹس کے صحافی پاکستان کے روایتی حریف انڈیا پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں اور طالبان کے خلاف فوجی مہم کو اُن الفاظ میں بیان کرتے ہیں جو زیادہ تر پاکستانی فوج کے بیانیے کی عکاسی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ان دعوؤں کو تقویت دینا کہ تمام حملوں میں افغان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، باوجود اس کے کہ شواہد اس کے برعکس تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا کہ ’پاکستان روایتی طور پر اپنی کہانی خود بیان کرنے میں بہت زیادہ شرمیلا اور خطرات مول لینے سے گریزاں رہا ہے۔ اب اس میں تبدیلی ہو رہی ہے۔‘

انگریزی کے نیوز چینلز لانچ کرنے کی اس کوشش میں شامل ایک پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ یہ اقدام گزشتہ مئی میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی فوجی جھڑپ کے بعد شروع کیا گیا جب سوشل میڈیا پر انڈیا نواز مواد کی بھرمار سے پاکستان ’مغلوب‘ ہو گیا تھا۔
گزشتہ برس تنازع کے دوران انڈین اور پاکستانی، دونوں ملکوں کے میڈیا نے غلط خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ سکیورٹی اداروں نے میڈیا ایگزیکٹیوز کی ’حوصلہ افزائی اور ان سے درخواست‘ کی کہ وہ ان بیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے انگریزی چینلز شروع کریں جس کے بدلے میں جزوی طور پر انہیں ٹیکس چھوٹ فراہم کی گئی۔

عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ اپیل حب الوطنی کی بنیاد پر کی گئی تھی۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان چینلز کو کتنی فنڈنگ ملی ہے لیکن یہ ضرور کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی انگریزی چینل ریاستی تعاون کے بغیر جڑ نہیں پکڑ سکتا۔

پاکستان ٹی وی (پی ٹی وی انگلش) کی تبدیلی کے علاوہ انڈیا کے ساتھ جھڑپ کے کچھ ہی عرصے بعد دو نئے انگریزی چینلز شروع کیے گئے۔ ان منصوبوں کے لیے جن صحافیوں سے رابطہ کیا کیا، ان کے مطابق کم از کم دو مزید چینلز پر کام جاری ہے۔

یہ چینلز پاکستان کی وسیع تر سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
انڈیا سے مختصر جنگ کے بعد سے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کیے ہیں جو انہیں اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ کہتے ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کرپٹو کے ذریعے صدر ٹرمپ کے رفقا کو اور معدنی سودوں کے ذریعے ان کی انتظامیہ کو مائل کیا ہے۔

پاکستان نے وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر ایک سفارتی طاقت کے طور پر پہچانے جانے کی کوشش بھی کی ہے۔ اس نے چین کے ساتھ طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کی تجدید کے فوراً بعد ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

اپنی سفارت کاری کو تقویت دینے کے لیے پاکستان اُن کامیاب ریاستوں کے زیرِاثر چینلز کی نقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اپنے ممالک کے پیغامات کو پھیلاتے ہیں اور بیرون ملک ان کے امیج کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں جیسے ترکی کا ٹی آر ٹی یا قطر کا الجزیرہ۔

سرکاری چینل پاکستان ٹی وی کے سربراہ عادل شاہ زیب نے گزشتہ موسمِ خزاں میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’اگر آپ سفارتی طور پر اچھا کام کر رہے ہیں، اگر آپ کی معیشت پٹری پر ہے تو آپ کو ایک مضبوط سرکاری براڈکاسٹر کی ضرورت ہے جو پاکستان کے وژن کو دنیا کے سامنے لا سکے۔‘

پاکستان کی انڈیا کے ساتھ تنازعات کے تناظر میں ٹیلی ویژن چینلز شروع کرنے کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ سنہ 2000 کی دہائی کے وسط میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تین انگریزی خبروں کے چینلز شروع کیے گئے تھے۔ لیکن وہ اقدامات غیرمنافع بخش ہونے کی وجہ سے جلد ہی ختم ہو گئے۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ میڈیا کے محاذ پر اس نئی مہم یا کوشش کو بھی اسی انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ فنڈنگ اور وژن قطر اور ترکی کی جانب سے فراہم کردہ وسائل کے قریب بھی نہیں۔

ملک کے چند آزاد میڈیا اداروں میں سے ایک ڈان ٹی وی کے اردو ٹاک شو کی میزبان عارِفہ نور نے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو ان کوششوں میں تیزی آ جاتی ہے لیکن کوئی بھی واقعی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا کہ آگے کیا ہو گا۔‘

حالیہ مہینوں میں سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹی وی نے پڑوسی ملک انڈیا میں احتجاج، افغانستان میں انسانی بحران اور پاکستان کی سفارت کاری کی کوریج کی ہے جس میں صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان تین ملاقاتیں اور پاکستان کا صدر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ لیکن متنازع داخلی مسائل اس کی سکرین سے زیادہ تر غائب رہے ہیں۔

ایک آزاد تحقیقی ادارے ’گیلپ پاکستان‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی نے کہا کہ ’حکومت کا خیال ہے کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر ٹیلی ویژن چینلز کو فنڈ دے سکتی ہے جنہیں وہ آسان ابلاغ کے لیے ترجمان کے طور پر استعمال کرے گی۔‘

یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان نے اس کوشش کے لیے براہ راست یا بالواسطہ طور پر فنڈنگ کا کون سا طریقہ استعمال کیا ہے۔

تین پاکستانی صحافیوں نے بتایا کہ ان سے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے رابطہ کیا تھا جنہیں ریاست کا ایک اہم رابطہ کار سمجھا جاتا ہے تاکہ ان منصوبوں میں سے ایک شروع کیا جا سکے۔

تینوں میڈیا ایگزیکٹیوز نے کہا کہ انہوں نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے حکومت کے طریقوں کو بیان کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
صوبائی وزیر شرجیل میمن اور پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے نیو یارک ٹائمز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

ریاستی کوششوں میں شامل پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ صحافیوں کو سکیورٹی اداروں کی جانب سے نئے منصوبوں کی ادارتی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ فنڈنگ کے ابتدائی دور کے بعد نئے چینلز کس طرح کام جاری رکھیں گے۔
ان نئے اداروں کو اُسی معاملے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جسے ملک کی معروف ایڈیٹرز کی تنظیم نے پاکستانی میڈیا پر حکومت کا ’مکمل کنٹرول‘ قرار دیا ہے۔
رپورٹرز اور انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کو بڑھتی ہوئی سنسرشپ اور مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے بشمول بینک اکاؤنٹس کا منجمد ہونا اور حکومتی اشتہارات کی معطلی، جبری برطرفی، گرفتاریاں اور قید۔ کئی صحافیوں کو ’غلط اور جعلی معلومات‘ کو جرم قرار دینے والے قانون کے تحت گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

ملک کا سب سے مشہور اخبار ’ڈان‘ اس وقت ایک مالی بحران کا شکار ہے جب حکومت نے اشتہارات کی آمدنی روک دی۔ اخبار کے مطابق اس کی غیرجانبدارانہ رپورٹنگ کی وجہ سے انتقام لیا جا رہا ہے۔
’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کے پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان 180 ممالک میں سے 158 ویں نمبر پر ہے۔

ڈان ٹی وی کی عارفہ نور نے کہا کہ یوٹیوب اور پوڈ کاسٹس پر آزادی کے کچھ گوشے باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ اس گفتگو کے لیے جگہ فراہم کرتا ہے جسے ریاست ختم کرنا چاہتی ہے۔‘

ریاست دوست میڈیا ہاؤسز کے دو سربراہوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آزادی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پاکستان ٹی وی کے مسٹر عادل شاہ زیب نے کہا کہ ’ہم ایک سرکاری براڈکاسٹر کے طور پر اتنے آزاد رہنے کی کوشش کریں گے جتنا ہم ہو سکتے ہیں۔ میں یہاں نامزد کرنے والوں کو صرف ’جی باس‘ نہیں کہوں گا۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ چینل ’معیاری، معتبر اور سنجیدہ‘ ہو۔

ان نئے چینلز میں سے ایک ایشیا ون نے گزشتہ موسمِ گرما میں کراچی میں اپنا آغاز کیا۔
ایشیا ون کے ڈائریکٹر اور تجربہ کار صحافی نوید قمر نے بتایا کہ چینل نے 250 ملازمین کی خدمات حاصل کی ہیں جن میں آن ایئر میزبان بنیادی طور پر غیرملکی ہیں۔
نوید قمر نے کہا کہ مقامی صحافیوں کے پاس عالمی ناظرین کے لیے مطلوبہ نشریاتی معیار کی انگریزی کی کمی تھی۔
مسٹر قمر نے کہا ’ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ایک غیرملکی صحافی پاکستان میں رہائش پذیر ہو سکتا ہے اور یہاں محفوظ رہ سکتا ہے۔‘

گزشتہ موسمِ خزاں میں ایشیا ون کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران نیوز روم میں گہما گہمی تھی جہاں درجنوں صحافی نیوز کلپس اور بلیٹن تیار کر رہے تھے۔
لیکن ایشیا ون کے ایک ملازم نے (جس نے کھل کر بات کرنے کے لیے نام نہ بتانے کی درخواست کی) کہا کہ یہ چینل اس صنعت میں صرف عارضی ریلیف فراہم کرتا ہے جہاں ملازمتیں نایاب ہیں۔
کراچی میں قائم سینٹر فار ایکسیلنس ان جرنلزم کے سربراہ اور سینیئر صحافی شاہ زیب جیلانی نے کہا کہ جس رفتار سے نئے چینلز نے کام شروع کیا وہ ’متاثر کن‘ ہے لیکن وہ اتنی ہی تیزی سے بند بھی ہو سکتے ہیں۔

شاہ زیب جیلانی نے کہا ’میں اپنے طلبہ کو ان نئے چینلز کے بارے میں بتاتا ہوں کہ ’وہاں جاؤ، سیکھو، پیسے کماؤ۔ لیکن یہ بات ذہن میں‌ رکھو کہ تم کس کے لیے کام کر رہے ہو۔‘

(یہ خبر نیویارک ٹائمز کے لیے الیان پیلٹیئر ( Elian Peltier ) اور ضیاء الرحمان نے کی ہے جو 24 مارچ 2026 جو شائع ہوئی۔)

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے