’حقیقت سے قریب تر‘ تجزیہ، اور تعصب کیا ہوتا ہے؟ محمد حسنین اشرف کا کالم
یہ جان لینے سے کہ کوئی تعصب نامی شے ہوتی ہے یا ’کنفرمیشن بائس‘ نامی کوئی شے ہوتی ہے آپ تعصب سے نہ تو ماورا ہوتے ہیں اور نہ ہی تعصب آپ کی باتوں سے نکل پاتا ہے اس کے لیے ازخود تعصب کو جاننا ضروری ہوتا ہے کہ وہ کن شکلوں میں ہمارے مباحث اور گفتگو کا اور ہمارے لاشعور کا حصہ بن چکا ہے۔ حالیہ جنگ اس کی ایک بہت اچھی کیس سٹڈی ہے۔
چونکہ تاریخی و دنیاوی مغالطوں کے پردے چاک کرنا ہمارا قومی مشغلہ بن چکا ہے اس لیے ہم تھوک کے حساب سے ان الفاظ کا اپنے تجزیات میں استعمال کرتے ہیں۔
بہت بنیادی بات سے شروع کرتے ہیں:
۱۔ جب آپ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ میں ’غیرمتعصب‘ بات کر رہا ہوں تو یہ بہت واضح نشانی ہے کہ آپ تعصب کا یا تو شکار ہیں یا آپ لفظ تعصب یا انگریزی کے لفظ بائس سے واقف نہیں۔ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ بغیر تعصب یا بغیر بائس کے کوئی رائے بنا سکے۔ ہم ہمیشہ متعصبانہ بات ہی کرتے ہیں- یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ میرے کون سے تعصبات ایسے ہیں جن سے میں واقف ہوں اور وہ میرے تجزیات کا حصہ ہیں- اگر آپ خود کو غیر متعصب اور اپنے تجزیے کو غیر متعصب تصور کرتے ہیں تو اس کا امکان بہت زیادہ ہے کہ آپ کا تجزیہ متعصبانہ ہے کیونکہ آپ کو موقع ہی نہیں ملا کہ آپ اپنے تعصبات کو دیکھ کر اپنے تجزیے کا رخ سیدھا کرسکیں اور اس بات کا اثبات کر سکیں کہ فلاں شے کے تجزیے میں میرے فلاں فلاں تعصبات کو دخل ہے۔
۲۔ زمینی حقائق کا میل کھانا۔ اکثر یہ بتایا جاتا ہے کہ فلاں تجزیہ زمینی حقیقت سے قریب ہے۔ یہ جانے و بیان کیے بغیر کہ لفظ ’زمینی حقیقت‘ اور تجزیے کی قرابت داری میں وہ کیا چیزیں ہیں جو تجزیے کو زمینی حقیقت سے دور اور قریب لے کر جاتی ہیں، محض یہ کہہ دینا کہ میرا یا فلاں کا تجزیہ زمینی حقیقت سے قریب تر ہے فقط اس بات کی نشانی ہے کہ یہ تجزیہ آپ کی رائے کو تقویت دے رہا ہے۔ سو اس جملے کی بارہا جگالی اصل میں ’کنفرمیشن بائس کا باعث بنتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لفظ بول دینے سے ہم نے تعصب کو مات دے دی ہے۔
مثال کے طور پر امریکہ کا کسی جنگ میں جیت جانے کا تجزیہ لفظ ’جیت‘ پر بہت منحصر ہے کہ آپ کس شے کو ’جیتنا‘ تصور کرتے ہیں اگر آپ کا لفظ ’جیت‘ امریکہ ہی سے مستعار لیا ہوا ہے تو تجزیے کا زمینی حقائق سے میل کھانے کا مطلب ہوگا کہ آپ اپنے بائس کو کنفرم کر رہے ہیں۔
اس کی بہت سادہ مثال لیتے ہیں: اکر کسی کا ’تصور کامیابی‘ یہ ہے کہ سکول میں اچھے نمبر آ جائیں اور کسی دوسرے کا تصور کامیابی یہ ہے کہ میرے تعلقات اچھے ہوں تو یہ تصور تجزیہ شروع کرنے سے قبل ایک تعصب آپ کے تجزیے میں شامل کردے گا۔ یوں زمینی حقائق ان تعصبات کی بنا پر طے ہوں گے، اچھے نمبر لینے والا تعلقات بنانے والے کی نظر میں ناکام اور تعلقات بنانے والا اچھے نمبر لینے کی نظر میں ناکام اسی طرح دونوں کے ’زمینی حقائق‘ مختلف ہوں گے۔
سو تجزیے کا آغاز تصوراتی سطح پر تعصب کو جانچنے سے کرنا اہم ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں پہلے قدم پر اپنے تعصبات کو ماننا، جاننا اور ان کی توجیہہ پیش کرنا ہوتی ہے اور پھر تجزیہ کرنا ہوتا ہے کہ فلاں تعصب میرے تجزیے کا حصہ ہے اور میں اسے قبول کرتے ہوئے یہ تجزیہ کر رہا ہوں۔
۳۔ جذباتیت۔ یہ مزید ایک ہتھیار ہے جسے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ بہت اچھی مثال بھی ہے کہ ہمارے ہاں تعصب کیسے گفتگوؤں میں شامل ہوتا ہے۔ جدید دنیا نے جذبات کو بہت عرصہ ایک منفی صورت میں دیکھا تو کوئی بھی جذباتی صورت جو ’منطقی فعالیت‘ (اللہ بھلا کرے دیکارت کا وہیں سے یہ قصہ شروع ہوا ہے) کو دھندلا دے ہم اسے کم تر سمجھتے ہیں اور علم کے لیے نقصان دہ جانتے ہیں۔ حالانکہ پہلا سوال اس پر ہونا چاہیے کہ یہ مفروضہ کس قدر درست ہے؟
کیا انسانی جذبات ہمیں علمیاتی فائدہ نہیں دیتے اور کون طے کرے گا کہ وہ اس وقت اس قدر جذبات سے اُوپر اُٹھ چکا ہے کہ اب اس کی علم تک بلا جذبات رسائی ممکن ہے؟ کیا ہماری علم تک رسائی بلا جذبات ممکن بھی ہے اور وہ کیا میکانزم ہے جس کے تلے آپ نے جذبات سے چھٹکارا پا لیا ہے؟ چونکہ کارٹیزین علمیات میں (کے بعد) جذبات ایک خاص نوعیت کی غیرعلمیاتی ذہنی سطحیں بن گئے ہیں تو ہم اب تک اسی تعصب کو سوال کیے بغیر اپنے تجزیات کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ جذبات (غیرجذباتی آدمی کو — اگر ایسا ممکن ہے تو) ایک ایسی اہم چیز سے محروم کر دیتے ہوں جو علم کے حصول یا بات کے درست ادراک میں از خود رکاٹ ہو اور یہ از خود آپ کے تجزیات میں تعصب پیدا کر رہا ہو؟
۴۔ ایکٹ آف بیلنسنگ/میزان کی چول بٹھانا
Act of Balancing
کچھ لوگ اس بات کو نہایت کارِخیر جانتے ہیں کہ چونکہ وہ تھوڑی سی بات ادھر سے پکڑ رہے ہیں اور تھوڑی سی بات اُدھر سے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ’متوازن‘ بایں معنی کہ تعصبات سے پاک بات کر رہے ہیں جبکہ اس ایکٹ آف بیلنسنگ پر بھی سوال ہونا چاہیے کہ وہ کیا شے ہے جو اس توازن کو اس قدر بہتر بناتی ہے؟ کیا یہ تو نہیں ہے کہ ہم توازن قائم کرنے کے چکر میں کچھ بہت اہم باتیں نظر انداز کر رہے ہیں- سو اس توازن کا اپنے آپ میں ایک قدر بن جانا بھی اُتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا نقصان دہ کسی ایک کونے پر جم کر بیٹھ جانا ہے۔
یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ کوئی بھی ایک پوزیشن فی نفسہ ایسی نہیں کہ وہ ہمیں علم تک بلا تعصب رسائی دے سکے۔ کسی شخص کا جذباتی طور پر کسی ایک رائے پر جم جانا ہمیں بہت اہم معلومات دیتا ہے اور ہم اس معلومات کو نظرانداز کرتے ہوئے محض اس ایکٹ آف بیلنسنگ میں مصروف نہیں رہ سکتے کہ ہاں چل تھوڑی سی تیری مان لیتے ہیں اور تھوڑی سی دوسرے کی مان لیتے ہیں۔
اس سب کے بغیر ان الفاظ کا استعمال، متکلم کے بارے میں یہ خبر دیتا ہے کہ وہ نہ تو ان الفاظ سے واقف ہے اور نہ ہی اس نے کوئی خاطرخواہ تجزیاتی کام کیا ہے۔ وہ صرف ’جذباتی‘ طور پر اور دھونس جمانے کے لیے ان الفاظ کو ادھر اٗدھر پھینک رہا ہے۔ پھر ان الفاظ کے استعمال سے مقصود اپنے تجزیے کو کائناتی و آفاقی بنانا ہوتا ہے مثلا میں یہ کہنے کی بجائے کہ فلاں تجزیہ ’مجھے” قرین قیاس معلوم ہوتا ہے، میں یہ کہتا ہوں کہ فلاں تجزیہ ’زمینی حقائق‘ سے زیادہ قریب یا فلاں تجزیہ ’حقیقت سے قریب تر‘ ہے تو میں اصلا میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ تجزیہ آفاقی ہے اور کائناتی ہے جو ایک نوعیت کی مزید دھونس ہے کہ میری بات آبجیکٹیو ہے اور تمہاری سبجیکٹیو ہے کیونکہ تم جذباتی ہو۔

