پاکستان

سوشل میڈیا صارفین کے مطالبات کے بعد سی سی ڈی سے مقابلے میں ملزم ہلاک

مارچ 29, 2026

سوشل میڈیا صارفین کے مطالبات کے بعد سی سی ڈی سے مقابلے میں ملزم ہلاک

پنجاب کے ضلع چکوال کے تھانہ ڈوہمن کے گاؤں ڈھوک قائم دین میں عید کے روز 38 سالہ مدثر حسین کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم ملک محمد احسن جہلم کے علاقے میں سی سی ڈی کے ساتھ مبینہ مقابلے کے دوران ہلاک ہو گیا۔

تھانہ ڈوہمن میں درج مقدمے کے مطابق پولیس مقابلے میں ہلاک کیے گئے ملزم ملک احسن کا مدثر حسین کے ماموں محمد یونس کے ساتھ زمین کا تنازع تھا جس کے دوران عید کے دن قبرستان میں پستول سے گولی مار کر دو معصوم بچوں کے باپ کو قتل کیا گیا-
ملزم ملک احسن واقعے کے بعد فرار ہو گیا تھا۔

ملزم ملک محمد احسن کے مقتول مدثر حسین پر پیٹھ کی جانب سے گولی چلانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس پر صارفین نے پنجاب کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) سے مطالبہ کیا تھا کہ ملزم کو مقابلے میں مارا جائے-

عید کے دن قتل کیے گئے مدثر حسین نے سوگواران میں اہلیہ اور دو کمسن بچے چھوڑے تھے- مقامی لوگوں کے مطابق مقتول کا زمین کے تنازعے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔

مقامی افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ قتل کے وقت ملزم ملک احسن اپنی پھوپھو کو جائیداد میں حصہ نہیں دینا چاہتا تھا، جبکہ اس کی پھوپھو مقتول مدثر حسین کے ماموں محمد یونس کی ساس تھیں۔ زمین کے اس تنازعے کا مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور ملزم کو شبہ تھا کہ محمد یونس اس کیس میں اپنی ساس کی مدد کر رہے ہیں۔

مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے ملزم ملک محمد احسن کے بارے میں‌بتایا گیا ہے کہ اس نے گزشتہ سال 28 ستمبر کو اپنے 10 سے 12 ساتھیوں کے ہمراہ محمد یونس کے گھر پر حملہ بھی کیا تھا، جہاں انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم رشتہ داروں اور گاؤں کے لوگوں کے پہنچنے پر ملزمان پانچ موٹر سائیکلیں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

تھانہ ڈوہمن پولیس (ملہال چوکی) نے یہ موٹر سائیکلیں برآمد تو کر لیں، مگر محمد یونس کی درخواست کے باوجود ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ الٹا مبینہ طور پر رشوت لے کر ملزمان کو موٹر سائیکلیں بھی واپس کر دی گئیں۔

مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی اسی غفلت اور کوتاہی کے باعث ملزم عید کے روز مسلح ہو کر قبرستان پہنچا، جہاں محمد یونس اپنے بھانجوں کے ساتھ اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے موجود تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق ملزم نے اس وقت مدثر حسین کو گولی ماری جب وہ اپنے بھائی اور ماموں کو خبردار کر رہے تھے کہ ملزم کے پاس پستول ہے اور وہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

دو روز قبل آئی جی پنجاب نے اس مقدمے کی تفتیش تھانہ ڈوہمن سے سی سی ڈی کو منتقل کر دی تھی۔

اب مقامی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سنیچر کی شب جہلم سے تقریباً 16 کلومیٹر دور ڈھوک منور کے قریب پہاڑی علاقے میں سی سی ڈی جہلم اور ملزم کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں ملزم ملک محمد احسن ہلاک ہو گیا۔

سوشل میڈیا صارفین اب اس واقعے پر تبصرے کر رہے ہیں کہ زمین وہی پڑی رہ گئی اور دو افراد کی جانیں‌ چلی گئیں-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے