متفرق خبریں

اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں 12 ارب روپے کا کرکٹ سٹیڈیم

اپریل 6, 2026

اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں 12 ارب روپے کا کرکٹ سٹیڈیم

اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیرِانتظام سٹیڈیم کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس کی ابتدائی لاگت 12 ارب ہے۔
اس منصوبے کے لیے شہر کے شمال مغرب میں مارگلہ کی پہاڑوں کے ساتھ سیکٹر ڈی 12 کے قریب جگہ مختص کی جا رہی ہے-

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی ہی پاکستان کے وزیر داخلہ بھی ہیں جو وفاقی ترقیاتی اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے کرتا دھرتا ہے- یہ اتھارٹی اسلام آباد میں زمین کے مالکانہ حقوق رکھتی ہے اور اس کو لیز آؤٹ کرتی ہے-

کپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میگا کرکٹ سٹیڈیم پروجیکٹ کے لیے (آج) پیر کو بولی کی جانچ پڑتال کے لیے اجلاس منعقد کر رہی ہے-

گزشتہ ماہ سی ڈی اے نے اسلام آباد میں پہلی بار کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کے لیے دو جوائنٹ وینچرز (JVs) سے تکنیکی بولیاں وصول کی تھیں۔ پی سی ون کے مطابق پروجیکٹ کی کل لاگت کا تخمینہ 12 ارب روپے لگایا گیا تھا۔

سٹیڈیم مارگلہ ہلز کے دامن میں سیکٹر ڈی-12 کے قریب تعمیر کیا جائے گا۔ سی ڈی اے کے ٹینڈر یا پیشکشوں کے لیے مطلوب بولی کے جواب میں حیرت انگیز طور پر گزشتہ ماہ صرف دو JVs – حبیب کنسٹرکشن، ZKB-EA اور لیمر بلڈرز، BK کنسلٹنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ – نے اپنی بولیاں جمع کرائیں۔

سی ڈی اے کے ایک عہدیدار نے انگریزی روزنامے ڈان کو بتایا کہ پیر کو ہم بولی جانچ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد کریں گے۔ اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد ہم مالی بولیوں کی طرف جائیں گے۔

عہدیدار نے بتایا کہ پروجیکٹ انجینئرنگ پروکیورڈ اور کنسٹرکشن (EPC) ماڈل کے تحت عمل میں لایا جائے گا، جس میں جوائنٹ وینچرز نے اپنی تکنیکی بڈز کے علاوہ اپنے ڈیزائن بھی جمع کروائے۔ اگلے مرحلے میں انہیں اپنی مالی بڈز جمع کروانے کے لیے کہا جائے گا۔

اس دوران سی ڈی اے کو دو کنسلٹنٹ کمپنیوں سے بھی بڈز موصول ہو چکے ہیں – ایک پاکستانی فرم، ایشین جس نے ترک کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر بنایا اور نسپاک۔ تکنیکی جانچ کے بعد، سی ڈی اے کنسلٹنٹ کی بڈز پر حتمی فیصلہ کرے گا۔

سٹیڈیم جس جگہ تعمیر کیا جائے گا وہ زون تھری III میں آتی ہے، جہاں کھیلوں اور تفریحی سرگرمیاں قانونی ہیں، تاہم تجارتی سرگرمیاں بالکل ممنوع ہیں۔ سی ڈی اے کو متعلقہ کام جیسے سٹیڈیم کے ساتھ تجارتی علاقے اور ہوٹلوں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت سے اجازت لینا ہو گی۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ (IWMB) نے رواں سال جنوری میں سی ڈی اے سے کہا تھا کہ وہ اسے مجوزہ کرکٹ سٹیڈیم کا لے آؤٹ پلان فراہم کرے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے