پاکستان

جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کی وفد کے ہمراہ پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس سے ملاقات

اپریل 8, 2026

جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کی وفد کے ہمراہ پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس سے ملاقات

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر جسٹس قادر اوزکایا کی قیادت میں وفد کو دورے پر خوش آمدید کہا ہے۔

آئینی عدالت سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کے چیمبر میں ایک اہم بین الاقوامی ملاقات کا انعقاد ہوا۔ ترکیہ کی آئینی عدالت کے وفد کے دورے کو دونوں ممالک کی اعلیٰ عدالتی فورمز کے درمیان عدالتی تعاون اور ادارہ جاتی تبادلے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وفد کی آمد کے موقع پر ان کا پرتپاک خیرمقدم اور والہانہ استقبال کیا گیا۔

چیف جسٹس امین الدین خان کے چیمبر میں نشست منعقد ہوئی جس میں ترک وفد نے وفاقی آئینی عدالت کے معزز جج صاحبان اور چیف جسٹس پاکستان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

اس نشست میں سپریم کورٹ پاکستان کے چیف جسٹس، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، اٹارنی جنرل پاکستان، وفاقی وزیر قانون اور دونوں عدالتوں کے رجسٹرار بھی موجود تھے۔

ایک رسمی تقریب میں تحائف اور یادگاری اشیاء کے تبادلے کا عمل انجام پایا، جو دونوں عدالتی اداروں کے درمیان خیرسگالی اور باہمی احترام کی علامت تھا۔
اس کے بعد 27ویں آئینی ترمیم پر مبنی مختصر دستاویزی فلم دکھائی گئی، جس کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت قائم ہوئی اور اس کے چیف جسٹس کی حلف برداری کی جھلکیاں پیش کی گئیں۔

Screenshot

ترکیہ کے وفد اور دیگر معزز مہمانوں کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا، جس کے دوران غیررسمی گفتگو میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دورے کے اختتام پر لابی میں گروپ فوٹو بھی بنایا گیا۔

اس دورے نے ترکی اور پاکستان کی آئینی عدالتوں کے درمیان قریبی روابط استوار کرنے میں سنگ میل کا کردار ادا کیا۔

دونوں فریقین نے اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور عدالتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے عزم ظاہر کیا۔

ملاقات کے دوران آئینی تشریح، عدالتی عمل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، صلاحیت سازی، قانونی مہارت کے تبادلے، اور عدالتی تربیت کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں طرف سے آئینی بالادستی اور انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا اور طے پایا کہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ آئینی حکمرانی کو مستحکم بنانے کے لیے تعاون کو وسعت دی جا سکے۔

یہ دورہ عدالتی تعاون کو فروغ دینے، بہترین عملی تجربات کے تبادلے کو یقینی بنانے، اور دونوں ممالک کی آئینی عدلیہ کے مؤثر اور شفاف کام کو سہارا دینے کے لیے عزم کا مظہر ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے