پاکستان

کثیر منزلہ ’کانسٹیٹیوشن ون‘ کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلہ سناتے رُک گئی

اپریل 8, 2026

کثیر منزلہ ’کانسٹیٹیوشن ون‘ کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلہ سناتے رُک گئی

اسلام آباد میں شاہراہِ دستور کے مشرقی سرے پر واقع کثیر منزلہ دو ٹاورز ’کانسٹیٹیوشن ون‘ کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنانے کے لیے مقرر دن پر خاموشی اختیار کر لی ہے-

صحافی مطیع اللہ جان کے مطابق بدھ کو تمام فریقین مقدمات کی فہرست (کاز لسٹ) کے مطابق کیس عنوان کے سامنے ’فیصلے کا اعلان‘ کے تحت کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے سنگل بینچ نے 24 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر جب بدھ کی کاز لسٹ میں درج دیگر تمام مقدمات کی سماعت نمٹا چکے تو کانسٹیٹیوشن ون ایونیو کا فیصلہ سنانے کے بجائے کمرہ عدالت سے اُٹھ کر چلے گئے۔

ہائیکورٹ میں ٹھیکیدار کمپنی بی این پی کی رٹ درخواست میں سی ڈی اے کی طرف سے اس منصوبے کی لیز منسوخ کرنے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

دی نیوز اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کثیرالمنزلہ عمارت میں سابق وزیراعظم عمران خان، سابق چیف جسٹس ناصر الملک، وزیر دفاع خواجہ آصف، برجیس طاہر، کشمالہ طارق، سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ افتخار حسین چودھری، بیرسٹر اعتزاز احسن، لیفٹیننٹ جنرل (ر) احسن اظہر حیات، سابق سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر، سابق گورنر سٹیٹ بنک اشرف واتھرا، اینکر پرسن و پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم، سابق نیوی چیف آصف سندیلہ، اداکارہ فریال گوھر، سابق وزیر دفاع احمد مختار، احسان مانی سمیت بڑی سیاسی، عدالتی و کاروباری شخصیات نے ابتدائی طور اس منصوبے میں فلیٹ خریدے تھے-

سی ڈی اے کے مطابق سنہ 2019 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے بینچ نے سی ڈی اے کی جانب دے ہوٹل کے منصوبے کے لیے دی گئی اس لیز زمین کو رہائشی منصوبے میں غیرقانونی طور پر تبدیل کرنے کو جائز قرار دیتے ہوئے کمپنی کو 17 ارب روپے 8 قسطوں میں اتھارٹی کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

اتھارٹی کے مطابق اس رقم کی صرف ایک قسط ادا کیے جانے کے بعد کمپنی نے مزید ادائیگی سے معذوری ظاہر کی تھی جس پر سی ڈی اے نے لیز منسوخ کر دی تھی۔ اس آرڈر کو کمپنی نے ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے