اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کی ’متعدل قیات‘ کے درمیان مذاکرات، کون کون شریک؟
دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات جاری ہیں-
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ان مذاکرات کو مستقل جنگ بندی اور مسائل کے حل کے لیے ایک ’کٹھن مرحلہ‘ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بطور ثالث پاکستان پورے خلوص کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب کرانے کی کوشش کرے گا۔
ایران کا مذاکراتی وفد محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پاکستان کے دارالحکومت پہنچا۔ نور خان ایئر بیس آمد پر ایرانی وفد کا استقبال پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیا۔
امریکہ کے مذاکراتی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے اعلان کیا تھا کہ نائب صدر سنیچر کی صبح اسلام آباد میں مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے اِن مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس، مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنے ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا انتخاب کیا۔
نائب صدر کی قیادت میں مذاکراتی وفد کو امریکی انتظامیہ کی ایک نئی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات کے پچھلے ادوار میں شامل تھے اور اسی دوران ایران پر حملے ہو گئے تھے۔
ایران کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد سے امریکہ سے زیادہ تر بیانات سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو، سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ دیے جو ہمیشہ جارحانہ رہے۔
اس پسِ منظر میں مبصرین جے ڈی وینس کو اس صورتحال میں ان مذاکرات کے لیے مناسب شخصیت قرار دیتے ہیں-
ایران کی جانب سے اسلام آباد مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی موجود ہیں-
بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے گذشتہ ماہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاوہ باقر قالیباف کا نام بھی اس اسرائیلی اُس فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے کہ جن ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنائے جانے کے امکانات ہیں۔
مذہبی، محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے میں جنم لینے والے باقر قالیباف ایک ایسے عملی سخت گیر رہنما کے طور جانے جاتے ہیں-
باقر قالیباف کی عمر 64 برس ہے. وہ دو دہائیاں قبل ایران کا صدارتی الیکشن ہار چکے ہیں-
جنگ کے دوران بار بار ایران کے دشمنوں کو خبردار کیا کہ وہ ان کے ‘اپنی سرزمین کے دفاع کے عزم کو نہ آزمائیں’ اور وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ‘مسلسل حملوں’ کی دھمکی بھی دیتے رہے تاہم امریکی میڈیا ادارے پولیٹیکو کے مطابق امریکی حکام انھیں ایک قابلِ عمل شراکت دار کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔
وہ پاسدارانِ انقلاب میں بھی رہے ہیں اور حکومت کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ امریکی حکام ایسی ایرانی شخصیات سے مذاکرات کر رہے ہیں جن کو وہ تہران میں نسبتا کم سخت گیر یا مستقبل کی معتدل قیادت کے طور پر دیکھ رہے ہیں-

