’چائے، کھانا اور مفت وائی فائی‘، ’اسلام آباد ٹاکس‘ کے دوران ’پاکستانی رپورٹنگ‘ پر تبصرے
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پر مقامی الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل آؤٹ لیٹس کی رپورٹنگ پر سوشل میڈیا صارفین کے درمیان بحث جاری ہے-
’اسلام آباد ٹاکس‘ کے دوران پاکستان کی وزارت اطلاعات نے مذاکرات کے مقام سیرینہ ہوٹل سے بالمقابل واقع کنونشن سینٹر میں صحافیوں کے لیے سہولیات مرکز قائم کیا تھا جہاں سے مقامی صحافیوں کی ویڈیوز، رپورٹنگ اور سوشل میڈیا پوسٹوں نے بحث کو نیا رُخ بھی دیا ہے-
بظاہر مقامی رپورٹرز نے صحافیوں کے سہولت مرکز کی ویڈیوز اور وزارت اطلاعات کی اس حوالے سے کاوش کو ہی اپنی رپورٹنگ میں مقدم رکھا جس پر تنقید بھی کی جا رہی ہے اور طنز کے نشتر بھی چلائے جا رہے ہیں-
سینیئر صحافی عامر الیاس رانا اور اینکر پرسن غریدہ فاروقی کی سہولیات کے حوالے سے ویڈیوز بیانات میں وزارت اطلاعات کی تعریف کو پاکستان کے سرکاری میڈیا یعنی پی ٹی وی اور اے پی پی کے سوشل میڈیا ہینڈلز سے پھیلایا گیا-
تجزیہ کار ماجد نظامی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں ہو رہے ہیں لیکن دنیا میں ان مذاکرات سے متعلق تازہ ترین احوال جاننے کے لیے سی این این، بی بی سی، الجزیرہ جیسے خبر رساں اداروں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مستند خبر کے لیے عالمی خبر رساں اداروں میں سے کوئی بھی پاکستانی میڈیا نہیں-‘
اس پر وزارت خارجہ سے جیو نیوز کے لیے رپورٹنگ کرنے والے صحافی اعزاز سید نے لکھا کہ ’دلچسپ بات یہ ہے کہ صبح نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی آمد پر پاکستانی میڈیا کو ائیر بیس پر رسائی نہ تھی تاہم اسکی آمد برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرز اور بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نے براہ راست نشر کی اور اسکی فوٹیج اور خبر پاکستانی میڈیا کو پورے ایک گھنٹے بعد جاری کی گئی۔‘
سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ جلیلہ حیدر نے اعزاز سید کی پوسٹ کو ری پوسٹ کر کے اپنی رائے دی کہ ’سچ بات یہ ہے کہ پاکستان کے اکثر صحافیوں نے اپنی کریڈیبیلیٹی بھی خراب کی ہے۔ سسپننس پھیلانا، بریکنگ نیوز کے نام پر ہذیانی کیفیت میں عوام کو مبتلا کرنا، خبر کے بجائے اپنے ذاتی رائے کو خبر پیش کرنا اور پھر جس طریقے سے بھاگ دوڑ کرتے ہے مائیک لوگوں کے منہ میں گھساتے ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اس حساس معاملے میں شاید انٹرنشنل میڈیا کو ترجیع دی گئی ہے۔‘
ایجوکیشن ایکٹیوسٹ زیبا ہاشمی نے فیس بک پر اپنے ایک تبصرے میں لکھا کہ ’جو لوگ (صحافی) شکایت کر رہے تھے کہ انہیں خبریں نہیں دی گئیں کیونکہ کوئی سرکاری بريفنگ نہیں ہوئی تھی، انہیں شکایت کرنا بند کر دینا چاہیے۔ ایک شخص کو جو کچھ ہو رہا ہے اس سے جڑے رہنا اور باخبر رہنا ضروری ہے۔ بعض لوگوں (صحافیوں) نے معلومات حاصل کیں اور بعض نے نہیں، اور کچھ نے زیادہ محنت کی۔ آج کے ڈان اخبار میں باقر سجاد سید کے ایک اچھے طویل مضمون میں بتایا گیا ہے کہ کیا بات چیت کی گئی۔ دیگر مقامی صحافی جو پرنٹ اور ڈیجیٹل کے لیے لکھ رہے ہیں، انہوں نے اپنی تحقیق اور ذرائع کی بنیاد پر جو معلومات جمع کیں وہ فراہم کی ہیں۔ میرا یقین ہے کہ اگر کوئی اس پیشے میں ہے تو خبروں تک رسائی کی ان کی بہتر صلاحیتیں اہم ہیں۔ مجھے براڈکاسٹ نیوز کو فالو کرنے کی بجائے گہری تحقیق والے مضامین پڑھنے کا زیادہ شوق ہے، ہاں، وہ تھوڑی دیر سے آتے ہیں، لیکن آخرکار سب کچھ ظاہر ہو جاتا ہے، ہمارے کچھ اپنے کام کے لیے وقف اور بہادر صحافیوں کی بدولت۔‘
اظہر ایم خان نامی ایک سوشل میڈیا صارف نے ایکس پر اپنے تبصرے میں لکھا کہ ’صحافیوں کو مُذاکراتی مقام سے تقریباً کلومیٹر دور رکھا گیا ہے۔ اُن کے لیے چائے، پانی کا کھلا بندوبست تو موجود ہے، مگر اصل مُذاکرات میں کیا ہو رہا ہے, اس کا ان کو ککھ نہی پتا۔ سب بغیر کسی تصدیق کے قیاس آرائیوں پر مبنی پوسٹس کر کے صرف اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کر رہے ہیں-‘
ٹی وی اینکر رائے ثاقب کھرل نے لکھا کہ ’پاکستانی میڈیا مذاکرات کی کوئی بڑی خبر رپورٹ نہیں کر پایا یا کیوں نہیں کر سکتا-
سادہ سی بات ہے: پاکستان میزبان ہے۔ اور پاکستانی حکام جو مذاکرات میں رابطہ کار ہیں وہاں تک ہمارے شاید ہی کسی صحافی کی براہ راست رسائی ہو- دوسری بات، اصل خبر امریکہ اور ایران کے وفود سے نکلے گی۔ اور وہ خبر کن کو دیں گے یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔‘
نوجوان صحافی حمزہ احسان نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پریس کانفرنس کر دوران کونسا پاکستانی صحافی موجود تھا؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی صحافیوں کو آج فری وائی فائی اور مفت کھانوں کے علاؤہ کوئی خبر نہیں ملی۔ کہاں واٹس ایپ پر ملنے والی خبریں بریک کرنا اور کہاں خود خبر نکال کر بریک کرنا۔
کوئی کسی کے لباس پر تبصرے کر رہا ہے اور کوئی مفت کی روٹیاں توڑ رہا ہے۔ آج بڑے بڑے صحافیوں کی اصلیت سامنے آ گئی۔‘
سحرش ماش کے ایکس ہینڈل سے اینکر پرسن غریدہ فاروقی کی ویڈیو پوسٹ کر کے لکھا گیا کہ ’کھانے کا انتظام موجود ہے، مفت وائی فائی موجود ہے، ولاگ کی سہولت موجودہے، گھومنے پھرنے کی آزادی ہے، وڈی سکرین لگی ہے خبریں دیکھنے کے لیے، سیلفی بھی لے سکتے ہیں۔ پاکستان کی مایہ ناز صحافی غریدہ فاروقی کی تیسری جنگ عظیم رکوانے والے مذاکرات پر SCOOP رپورٹنگ-‘
اس پوسٹ پر صحافی سعدیہ مظہر نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’پی ٹی وی اور پاکستان ٹی وی کی رپورٹنگ نکال کر دیکھیں بار بار کنونشن سینٹر انتظامات، مفت کھانا وغیرہ رپورٹ ہو رہا یے اور پاکستان کے جتنے صحافی یہاں موجود ہیں وہ بھی سب سے زیادہ اسی بات کو رپورٹ کرتے نظر آ رہے ہیں-‘
انہوں نے کہا کہ نیویارک ٹائمز سے لے کر یر بڑے نشریاتی ادارے کے صحافی موجود ہیں، کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی قابل فہم گفتگو سننے کو ملتی-‘
صحافی طارق اقبال چودھری نے تبصرہ کیا کہ میڈیا سینٹر سے صحافیوں نے پورے دن میں تین بڑی خبریں بریک کر دیں- ایک کہ کھانے میں نان بریانی شامل ہے، دوسری کہ تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت، اور شٹل سروس کی دستیابی-
اس پر دی نیوز سے منسلک صحافی سہیل خان نے لکھا کہ چلو اچھا ہوا بہار کا موسم ہے، کچھ صحافیوں نے پوری دنیا کو اسلام آباد کی شاہراہوں کی سیر کرا دی- اور کچھ نے نئی کتاب لکھنے کے لیے اچھا مواد اکٹھا کر لیا-

