پاکستان

اسلام آباد تاحال سکیورٹی حصار میں مگر امریکہ-ایران مذاکرات کے آثار کم

اپریل 22, 2026

اسلام آباد تاحال سکیورٹی حصار میں مگر امریکہ-ایران مذاکرات کے آثار کم

اسلام آباد میں امریکیہ اور ایران کے مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے انتظامات بدستور اپنی جگہ قائم ہیں، شہر کے کچھ حصے تاحال سیل ہیں لیکن رواں ہفتے ہونے والے مذاکرات کی امیدیں اب معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔

ادھر خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ ’ایران کے خلاف جارحیت یا کسی بھی کارروائی کی صورت میں پہلے سے طے شدہ اہداف پر فوری حملے کیے جائیں گے۔‘

قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی تھی کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا امن مذاکرات کے سلسلے میں مجوزہ دورہِ پاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع پر شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

ایک الگ بیان میں‌امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چار دن قبل ان سے رابطہ کر کے بتایا گیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنا چاہتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں رکھنا چاہتا، وہ اسے کھولنا چاہتا ہے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر 500 ملین ڈالر کما سکے۔‘

ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’ایران اس لیے یہ کہہ رہا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز کو بند رکھنا ہے کیونکہ میں نے اسے مکمل طور پر بند اور بلاک کر رکھا ہے۔‘

امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چار روز قبل ان کو بتایا گیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے لیکن اگر ہم ایسا کریں گے تو ایران کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہو پائے گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے