ڈیموکریٹس گروپ نے نیشنل پریس کلب کی تحقیقاتی کمیٹی مسترد کر دی، بیان جاری
اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے دی ڈیموکریٹس گروپ نے غیرملکی صحافیوں کے اعزاز میں نیشنل پریس کلب میں عشائیہ دینے کی پاداش میں سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف جانبدار ارکان پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی کا قیام مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ غیرجانبدار اور سینیئر صحافیوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے۔
دی ڈیموکریٹس کور کمیٹی کا ہنگامی اجلاس زیرصدارت محمد نواز رضا چئیرمین ڈیموکریٹس منعقد ہوا جس میں غیرملکی صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ کے حوالے سے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کو ذمہ دار ٹھہرانےکے لیے ایک ایسی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی جو نہ صرف جانبدار ، متنازع بلکہ مفادات کے ٹکرائو کا شکار ہے۔ اگر تحقیقات اتنی ہی ضروری ہیں تو پریس کلب کے فنانس سیکریٹری عابد عباسی کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے جنہوں نے پریس کلب کی نمائندگی کرتے ہوئے صحافیوں کو شیلڈ دیں موجودہ کمیٹی کو فی الفور تحلیل کر کے ناصر زیدی کی سربراہی میں حامد میر، ندیم ملک، کاشف عباسی اور عاصمہ شیرازی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔
بیان کے مطابق یہ امر باعث افسوس ہے کہ ایسے تین ارکان کو کمیٹی می شامل کر لیا گیا جو خود شکایت کنندہ ہیں۔ اپوزیشن گروپ کے جن ارکان کو اس کمیٹی کا رکن بنایا گیا ہے وہ پریس کلب کے چند معزز ارکان کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی غیر ذمہ دارانہ مہم کا حصہ رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دی ڈیموکریٹس نیشنل پریس کلب کے انتخابات میں نومنتخب باڈی کے تحت ایک صاف ستھرے اور غیرجانبدار پریس کلب کے قیام کا خواہاں ہے۔ اگر اس کے باوجود کسی کو کوئی ابہام ہے تو مذکورہ غیرجانبدار صحافیوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی کے قیام سے دور کیا جاسکتا ہے، ہم غیرجانبدارانہ تحقیقات کا خیر مقدم کریں گے۔
بیان کے مطابق اجلاس میں شکیل احمد، طارق عثمانی، ڈاکٹر سعدیہ کمال، رانا کوثر، جاوید ملک، مطیع اللہ جان، شکیل قرار ، سجاد حیدر اور صدیق انظر نے شرکت کی۔

