بلوچستان کے ضلع چاغی میں مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملے میں 9 افراد ہلاک
بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایک مائننگ کمپنی کی سائٹ پر نامعلوم افراد کے حملے میں کم از کم 9 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے-
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سرکاری حکام نے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں دو سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔
ضلع چاغی کے علاقے داریگوان میں یہ حملہ بدھ کی شام کیا گیا تھا اور کمپنی نے اس کی تصدیق کی تھی تاہم ہونے والے نقصان کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔
کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو محفوظ بنا لیا تھا۔
نیشنل ریسورسز (پرائیوٹ) لمیٹڈ پر حملہ
مقامی حکام کے مطابق بدھ کے روز حملہ ضلع چاغی میں نیشنل ریسورسز (پرائیوٹ) لمیٹڈ کی سائٹ پر کیا گیا۔
کمپنی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 22 اپریل 2026 کو تقریباً شام 5 بج کر 45 منٹ پر بلوچستان کے ضلع چاغی میں داریگوان کے علاقے میں نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی سائٹ پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔
بیان کے مطابق فرنٹیئر کور سمیت سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو محفوظ بنا لیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اہلکاروں اور تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کے مطابق کمپنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور مزید معلومات دستیاب ہونے پر نئی صورتِ حال سے آگاہ کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ملازمین اور آپریشنز کی حفاظت اور سلامتی کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔
این آر ایل کوئٹہ میں رجسٹرڈ ایک نجی پاکستانی کمپنی ہے۔ یہ فاطمہ فرٹیلائزر، لبرٹی ملز اور لکی سیمنٹ کے درمیان قائم ایک جوائنٹ وینچر کے طور پر تشکیل دی گئی ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق این آر ایل کے پاس بلوچستان میں 500 مربع کلومیٹر میں سونے اور تانبے کی تلاش کا لائسنس ہے۔
حکام کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والوں میں مزدوروں اور کارکنوں کے علاوہ دو پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔
ہلاک ہونے افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دالبندین منتقل کی گئیں۔ مقامی حکام کے مطابق اس حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے تھے جن کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔
ضلع چاغی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مغرب میں اندازاً ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ دالبندین سے اس کا فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر ہے۔
ضلع چاغی نہ صرف معدنی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ ایک سرحدی ضلع ہونے کے باعث سٹریٹیجیک اہمیت کا بھی حامل علاقہ ہے۔ اس ضلع کی سرحدیں شمال میں افغانستان جبکہ مغرب میں ایران سے ملتی ہیں۔
گذشتہ سال ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں سکیورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹر پر ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا۔

