پنجاب پولیس کی روایتی سستی، لاپتہ خاتون ٹیچر کو قتل کر کے لاش جلا دی گئی
صوبہ پنجاب میں پولیس قتل، اغوا اور ریپ جیسے سنگین جرائم پر قابو پانے میں مکمل طور پر بے بس اور ناکام نظر آتی ہے-
ضلع پاکپتن میں خاتون ٹیچر کو قتل کر کے لاش کھیتوں میں پھینکے جانے کے بعد صوبائی پولیس کے حکام نے تفتیش شروع کی جبکہ گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرائے جانے کے بعد بازیاب کے لیے کوششیں نہ کی گئیں-
پاکپتن کے تھانہ سٹی میں مدعی عمر دراز خان نے دن سوا بارہ بجے پہلی اطلاعی رپورٹ دی تھی کہ اُن کی ہمشیرہ گزشتہ روز سے لاپتہ ہے- انہوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کی ہمشیرہ کو طلاق ہو چکی ہے اور وہ اپنے مکان میں اکیلی رہائش پذیر ہیں-
درخواست گزار مدعی کے مطابق اُن کی بہن قریبی سرکاری سکول چک بیدی میں بطور سپرنٹنڈںٹ امتحانات تعینات تھیں اور جب ڈیوٹی پر نہ پہنچیں تو اُن کی گمشدگی کا معلوم ہوا-
مدعی عمر دراز خان کے مطابق انہوں نے دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ قریبی ہسپتال اور بابا فرید کے دربار پر بھی رات بھر بہن کی تلاش کی مگر ناکام رہے اور اب صبح پولیس سے اس لیے رجوع کیا کہ لاپتہ بہن کے داماد نے کچھ معلومات دیں-
مدعی نے پولیس کو بتایا کہ لاپتہ ہمشیرہ کے داماد توصیف صدیقی کے مطابق بہن کے مکان میں کرایہ دار کے طور پر رہنے والے پولیس اہلکار زاہد سکھیرا نے چند روز قبل نشہ آور شے پلا کر ہمشیرہ کو جنسی طور پر ہراساں اور زد وکوب کیا تھا-
ایف آئی آر میں مزید لکھا گیا ہے کہ ہمشیرہ کی بہو اور اُن کا بھائی آصف عرف بلا میرے گھر آئے اور جائیداد میں حصے کا تقاضا کیا- پولیس سے استدعا کی گئی کہ ہمشیرہ کو تلاش کیا جائے کیونکہ اُن کو جانی نقصان پہنچائے جانے کا خدشہ ہے- مقدمے میں پولیس اہلکار زاہد اسحاق سکھیرا، آصف عرف بلا اور ریحانہ زوجہ وقار یاسین کو نامزد کیا گیا تھا-
مقدمہ درج کیے جانے کے بعد روایتی سست روی سے تفتیش کے دوران خاتون ٹیچر کو قتل کیے جانے کے شواہد ملے-
پنجاب کی صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ چئیرپرسن پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے عارف والا میں خاتون ٹیچر کو بے دردی سے قتل کر کے لاش کو جلا کر کھیتوں میں پھینکنے کے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیا ہے-
بیان کے مطابق حنا پرویز بٹ نے ڈی پی او پاکپتن سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی-
بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان آصف عرف بلا اور ریحانہ کو گرفتار کر لیا جبکہ مرکزی ملزم زاہد سکھیرا کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

