پاکستان

گجرات میں تین دنوں‌ میں‌ 9 قتل، ڈکیتی اور جنسی تشدد کے جرائم پر وزیراعلٰی پنجاب برہم

اپریل 24, 2026

گجرات میں تین دنوں‌ میں‌ 9 قتل، ڈکیتی اور جنسی تشدد کے جرائم پر وزیراعلٰی پنجاب برہم

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات میں‌ گزشتہ تین دنوں کے دوران خواتین سمیت 9 افراد قتل، کیے گئے جبکہ جنسی تشدد جیسے جرائم، اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او کو لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے-

ضلع گجرات میں لا اینڈ آرڈر کی بگڑتی صورتحال پر وزیراعلیٰ پنجاب نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی، 72 گھنٹوں کے دوران ضلع بھر میں خواتین سمیت 9 افراد کو مختلف واقعات میں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف گجرات کی بس میں ڈکیتی کی واردات نے سکیورٹی انتظامات کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
جلالپور جٹاں میں کچرا اٹھانے والے نوجوان عبدالغفار کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا، جبکہ تھانہ ککرالی کے علاقہ جنڈالہ میں 13 سالہ محمد ارسلان کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ بدھوال ڈنگہ میں گھر میں سوئے میاں بیوی کو کلہاڑیوں کے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

اسی طرح لالہ موسیٰ میں خاتون کو اغواء کے بعد قتل کر کے لاش بدھو کالا کے علاقے سے برآمد ہوئی۔ عادوال میں بھی ایک نوجوان کو قتل کر دیا گیا، جبکہ تھانہ ڈنگہ کے علاقہ بھکنانوالی کے رہائشی کو نامعلوم افراد نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ڈنگہ میں آج دو خواتین ماں بیٹی کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا-

ادھر 16 اپریل کو گلیانہ میں پیش آنے والے مبینہ زیادتی کے واقعہ میں دو ملزمان نے گھر میں گھس کر اسلحہ کے زور پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یونیورسٹی آف گجرات کی بس کو روک کر تین مسلح طلباء نے ہی طلبہ سے لیپ ٹاپ بیگ چھین لیے اور فرار ہو گئے۔ جلالپور جٹاں میں گھوڑ دوڑ کے دوران ایک 13 سالہ بچہ گھوڑوں تلے آ کر شدید زخمی ہو گیا جسے تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے امن و امان کے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں گجرات میں بڑھتے ہوئے جرائم، خصوصاً یونیورسٹی بس ڈکیتی اور قتل کے بڑھتے واقعات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں گجرات پولیس نے زیادتی ،ڈکیتی، قتل کی وارداتوں میں ملوث کئی افراد کی گرفتاری کا دعویٰ بھی کیا ہے ضلع بھر میں بڑھتی ہوئی وارداتوں سے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے