پیکا کے تحت گرفتار سینیئر صحافی فخر الرحمن کی ضمانت کی درخواست منظور
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پیکا قانون کے تحت گرفتار سینیئر صحافی فخر الرحمن کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے-
پیر کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیکا ایکٹ کے تحت ایکس پر متنازع پوسٹ کے کیس میںسینیئر صحافی فخر الرحمان کی ضمانت بعد از گرفتاری درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا گیا-
سرکاری وکیل نے درخواست ضمانت کی مخالفت کی تھی-
جوڈیشل مجسٹریٹ جج عباس شاہ نے کیس کی سماعت کی- بیرسٹر احد کھوکھر گرفتار صحافی فخر الرحمان کی جانب سے پیش ہوئے اور بتایا کہ این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق موبائل فون برآمد کر لیا گیا ہے-
احد کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی عمر 60 برس سے زائد یعنی وہ سینیئر سٹیزن ہے، باقاعدگی سے ادویات بھی چل رہی ہیں-
ملزم نے اپنی کوئی رائے نہیں دی بلکہ مولانا کا بیان ٹویٹ کیا، ایف آئی آر کے مطابق ملزم کا کردار بھی نہیں بتایا گیا- احد کھوکھر نے استدعا کی کہ یہ ایک بے بنیاد کیس بنایا گیا ہے ضمانت منظور کی جائے-
سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، کیا بیان کی ڈی جی آئی ایس پی آر یا وزارت دفاع سے تصدیق کی گئی تھی؟ ایسی ٹویٹس کی وجہ سے سارا سکردو جل گیا تھا-
سرکاری وکیل کے مطابق پاکستان، ایران کے تعلقات سارے دنیا کے سامنے ہیں کہ کیا صورتحال ہے، ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کی جائے-
ایڈیشنل سیشن جج عباس شاہ نے پیکا مقدمے میں 50 ہزار روپے مچلکوں کے عوض سینئیر صحافی فخر الرحمان کی درخواست ضمانت ضمانت منظور کر لی-

