پاکستان

‏نواز شریف اور شہباز شریف نامی دو شہریوں پر 37 ہزار ڈالر کرپٹو کرنسی فراڈ کا مقدمہ

اپریل 28, 2026

‏نواز شریف اور شہباز شریف نامی دو شہریوں پر 37 ہزار ڈالر کرپٹو کرنسی فراڈ کا مقدمہ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ‏نواز شریف اور شہباز شریف نامی دو شہریوں کی 37 ہزار ڈالر کرپٹو کرنسی فراڈ کے مقدمے میں‌ عبوری ضمانت منظور کر لی ہے-

نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں‌ درج کیے گئے مقدمے کے مطابق تحصیل فورٹ عباس اور ضلع بہاولنگر کے رہائشی محمد نواز شریف ولد محمد شریف اور محمد شہباز شریف ولد محمد شریف کے خلاف شکایت سنہ 2024 میں‌ سامنے آئی تھی جس کی انکوائری کی گئی اور بعد ازاں ایف آئی آر کاٹی گئی-

ایف آئی آر کے مطابق انکوائری میں یہ سامنے آیا کہ شکایت کنندہ اسلام آباد کے رہائشی حسن محسن نے ملزمان کے جو واٹس ایپ نمبر مہیا کیے تھے وہ دونوں کے ہی تھے جبکہ بینک اکاؤنٹس بھی ملزمان سے منسلک ہیں-

مدعی مقدمہ کے مطابق دونوں ملزمان غیرملکی واٹس ایپ نمبر استعمال کر رہے تھے اور خود کو آن لائن کرپٹو کرنسی ٹریڈرز ظاہر کر کے سرمایہ کاری کی ترغیب دی-

الزام عائد کیا گیا کہ ملزمان نواز شریف اور شہباز شریف نے مدعی سے آن لائن کرپٹو کرنسی میں‌ سرمایہ کاری کے لیے 37 ہزار ڈالر لیے- اور اس کے لیے خود کو ٹریڈرز ظاہر کیا-

ان کا کہنا تھا کہ رقم دونوں‌ کے بائنانس اکاؤنٹ میں‌ منتقل کی گئی جبکہ اس کے بعد منافع دیا گیا اور نہ ہی اصل رقم واپس کی گئی-

ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ انکوائری میں‌ الزام درست پایا گیا اور ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ بینک ٹرانزیکشن ہوئی ہے-

این سی سی آئی میں پیکا ایکٹ اور فوجداری دفعات کے تحت درج مقدمے میں نواز شریف اور شہباز شریف نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کیا-

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت میں نواز شریف اور شہباز شریف کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔

وکیل صفائی کے مطابق ‏واٹس ایپ نمبر سے بھی نواز شریف اور شہباز شریف کا کوئی تعلق نہیں-

‏عدالت نے نواز شریف اور شہباز شریف کی عبوری ضمانت 5 مئی تک منظور کرتے ہوئے دونوں کو 20، بیس ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے