اہم خبریں

غیرملکی صحافیوں‌ کو عشائیہ نہ دینے کے لیے فون آئے، مطیع اللہ جان نے کہانی کھول دی

مئی 3, 2026

غیرملکی صحافیوں‌ کو عشائیہ نہ دینے کے لیے فون آئے، مطیع اللہ جان نے کہانی کھول دی

عالمی یومِ آزادی صحافت کے دن کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی اور اینکرپرسن مطیع اللہ جان نے کہا ہے کہ:
’ابھی حال ہی میں جب ہائی کورٹ نے پوچھا کہ بھئی وہ لیبارٹری رپورٹ کا کیا ہوا؟ تو ڈیڑھ سال بعد اب جو رپورٹ آئی ہائی کورٹ کے اندر، تو اس میں کہا گیا کہ نہیں جی وہ ‘آئس’ نہیں تھی، وہ منشیات تھی ہی نہیں۔ یعنی ڈیڑھ سال تک مجھے ڈیفیم کیا گیا، بدنام کیا گیا، تذلیل کی گئی میری، اور اس کے بعد بڑے آرام سے کہہ دیا گیا کہ جی لیبارٹری سے رپورٹ نیگیٹو آگئی ہے تو ہم اب منشیات کا مقدمہ واپس لیتے ہیں۔ یہ میں اسلام آباد پولیس کی کارستانیاں آپ کو بتا رہا ہوں۔ اب پیچھے رہ گیا دہشت گردی کا مقدمہ۔ ہم نے سپرا صاحب کی عدالت میں جتنی بھی درخواستیں دیں کہ کیس جعلی ہے، ایویڈنس نہیں ہے، انہوں نے مسترد کر دیں۔ ہم ہائی کورٹ آئے، ہائی کورٹ نے لمبی تاریخ دے دی۔ پھر سپریم کورٹ آئے، سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ پہلے یہ طے کرے کہ یہ دہشت گردی کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔‘
’حال ہی میں میں نے فارن کارسپانڈنٹس کو ڈنر پر انوائٹ کیا۔ پوری دنیا سے کارسپانڈنٹس اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا کہ نیشنل پریس کلب کو انٹرنیشنل بنایا جائے، یہاں جب فارن صحافی آئیں تو انہیں پتہ چلے کہ یہاں صحافت اور ادارے موجود ہیں۔ 8 اور 9 مئی کو ہم نے دعوت دی، جس میں 6، 7 صحافیوں نے شرکت کی کنفرمیشن دی۔ میں نے پریس کلب کے صدر اور سیکرٹری کو اعتماد میں لیا، انہوں نے انتظامات کرائے۔ میں نے ایک سوینیئر (SOUVENIR) بھی بنوایا جس پر لکھا تھا کہ یہ اسلام آباد کے سینیئر صحافیوں اور منتخب باڈی کی طرف سے یادگار ہے۔ اس وقت سیکرٹری فنانس عابد عباسی موجود تھے، انہوں نے خود یہ شیلڈز تقسیم کیں جس کی تصاویر بھی موجود ہیں۔‘
’اصل مسئلہ سوینیئر کا نہیں تھا۔ ڈنر سے ایک گھنٹہ پہلے مجھے فخر الرحمان کے بیٹے کی کال آئی کہ ’ابو کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔‘ میں ڈسٹرب ہو گیا، میں نے ٹویٹ بھی کی۔ جب مہمان صحافی آئے تو میں نے ان سے تذکرہ کیا کہ یہاں معاملات ٹھیک نہیں ہیں۔ میں نے فخر الرحمان کی گرفتاری کا بتایا، ایمان مزاری اور ہادی علی کو ٹویٹس پر ہونے والی 17 سال قید کا ذکر کیا اور اپنے کیس کا بتایا۔ وہاں موجود لوگوں نے ویڈیوز بنائیں اور شیئر کر دیں۔‘
’پریس کلب میں 20 سال بعد جو ٹولہ فارغ ہوا ہے، انہیں اصل تکلیف یہ ہوئی کہ موقع مل گیا بدلہ لینے کا۔ میرے خلاف سوشل میڈیا مہم اس ویڈیو کلپ پر چلی جہاں میں فخر الرحمان کا ذکر کر رہا تھا، لیکن پریس کلب کی باڈی نے سوینیئر کو بہانہ بنایا۔ افضل بٹ صاحب خود پی ایف یو جے کے صدر ہوتے ہوئے پریس کلب کے الیکشن میں بیلٹ پیپرز گن رہے تھے۔ چونکہ انہیں شرمناک شکست ہوئی تھی، اس لیے انہوں نے گورننگ باڈی میں اپنی میجارٹی کا فائدہ اٹھا کر میرے خلاف نوٹس جاری کر دیا۔ میں نے اور ڈیموکریٹ گروپ نے اس کمیٹی کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے کیونکہ یہ لوگ پہلے ہی میرے خلاف پروپیگنڈا کر رہے تھے۔‘
’افضل بٹ گروپ مختلف حیلے بہانوں سے بائیو میٹرک الیکشن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ ہم نے ڈیموکریٹ گروپ کی حمایت اسی شرط پر کی تھی کہ آئندہ الیکشن بائیو میٹرک ہوں گے۔ یہ سازش اس لیے ہو رہی ہے تاکہ پرانے دھاندلی زدہ نظام کو بچایا جا سکے۔‘
’اس واقعے والے دن مجھے (وزارت اطلاعات کے) ایکسٹرنل پبلیسٹی ونگ اور حتیٰ کہ میرے اپنے ہیڈ آفس لاہور سے بھی فون آئے کہ ڈنر کینسل کر دیں، لیکن میں نے کہا کہ پریس کلب ہمارا گھر ہے، وہاں دوستوں کو بلانے میں کیا حرج ہے؟ رات کو جب میں پروگرام ریکارڈ کر کے نکلا تو مجھے ای میل آ گئی کہ آپ کو ٹرمینیٹ کر دیا گیا ہے اور آپ کا ریکارڈ کیا گیا پروگرام بھی آن ایئر نہیں جائے گا۔ میں اپنے ادارے (نیو ٹی وی) کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے تین سال سات ماہ برداشت کیا۔‘
’میں ٹی وی چینلز کو بلیم نہیں کرتا، ان پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا شدید دباؤ ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی سوچ بہت محدود ہے، انہیں سمجھ نہیں آئی کہ اس گفتگو کو ایشو بنا کر انہوں نے خود کو انٹرنیشنلی ایکسپوز کیا۔‘
’ایک امریکی خاتون صحافی نے ٹویٹ کی کہ ’مجھے لگتا ہے مجھے استعمال (USE) کیا گیا۔‘ مجھے بڑا عجیب لگا کہ ایک صحافی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ اسے استعمال کرنا اتنا آسان ہے۔ کیا وہ جب کسی سیاست دان کی پریس کانفرنس میں جاتی ہیں تو کیا وہ اس بیانیے کا حصہ بن جاتی ہیں؟ اس خاتون صحافی کی ٹویٹ کے بعد پروپیگنڈا میں تیزی آئی اور اسی کا ڈراپ سین میری نوکری جانے کی صورت میں ہوا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے