امریکہ نے ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا، ترجمان امریکی سینٹرل کمانڈ
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے ایک ترجمان نے اے بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ وہ ایرانی جہاز، جسے امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے بعد تحویل میں لیا گیا تھا عملے سمیت پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اسے ایران واپس بھیجا جا سکے۔
سینٹ کام کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز کے مطابق ’آج یعنی سوموار کے روز امریکی افواج نے ’ایم وی توسکا‘ کے 22 عملے کے اراکین کو ایران واپسی کے لیے پاکستان منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جب کہ چھ دیگر مسافروں کو گزشتہ ہفتے ہی منتقل کر دیا گیا تھا۔‘
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان چھ افراد کی شناخت عملے کے بعض ارکان کے اہلِ خانہ کے طور پر کی گئی ہے۔‘
کیپٹن ہاکنز کا کہنا تھا کہ ’جہاز توسکا کو اس کی اصل ملکیت رکھنے والی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے لیے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس بحری جہاز کو گزشتہ ماہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کے دوران روکا اور ضبط کیا گیا تھا۔‘
امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے مطابق ’19 اپریل کو امریکی بحری جہازوں کی جانب سے چھ گھنٹے تک دی گئی وارننگز کو نظر انداز کرنے کے بعد ایک امریکی ڈسٹرائر نے کنٹینر شپ کے انجن روم پر فائرنگ کی، بعد ازاں امریکی میرینز نے جہاز پر سوار ہو کر اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرنے کے لیے ’پراجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم اسی کے ساتھ انھوں نے خبردار بھی کیا کہ کسی بھی طرح مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔
اب امریکی صدر کے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس بیان کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایک بیان میں ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ’آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس کو ٹرمپ کے خیالی بیانات کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔‘
ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز کے نئے بحری نظام میں کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس ٹرمپ کی مرضی کے مطابق نہیں چلیں گے۔ الزام تراشی اور دہونس کسی کو قابلِ قبول نہیں۔‘