حسین نقی: صحافتی مزاحمت اور نظریاتی استقامت کا ایک عہد
بشکریہ: محمود الحسن (مجموعہ خیال، یوٹیوب چینل)
لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایک سادہ سی طرز کا گھر، جس کا ڈرائنگ روم اس کے مکین کے مزاج کی طرح بالکل سادہ اور پروقار ہے۔ یہ ممتاز صحافی اور حریتِ فکر کے علمبردار حسین نقی صاحب کی رہائش گاہ ہے، جہاں حال ہی میں ممتاز صحافی اور مصنف محمود الحسن کی وساطت سے ایک یادگار نشست ہوئی۔ 90 کی دہائی میں قدم رکھنے کے باوجود نقی صاحب کا حافظہ اور حالاتِ حاضرہ پر گرفت حیران کن ہے۔
ان کی میز پر اس دن کا انگریزی اخبار اور عثمان بلوچ کی خودنوشت ’ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ رکھی تھی جو ان کے ہمہ وقت مطالعے کی عادت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
پاکستان میں آزادیِ صحافت کی تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے حسین نقی صاحب نے نہایت بے باکی سے ان تاریک پہلوؤں پر روشنی ڈالی جن کا ذکر عموماً کم ملتا ہے۔
نقی صاحب کا ماننا ہے کہ جہاں فوجی آمریتوں نے صحافت پر قدغنیں لگائیں، وہیں جمہوری کہلانے والے لیڈروں کا منفی ’کنٹری بیوشن‘ بھی کچھ کم نہیں رہا۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے برطانوی دور کے بنے ہوئے ’آفیشل سیکرٹس ایکٹ 1923‘ میں ایسی ترمیم کی جس نے آزادیِ اظہار کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ انگریز کے دور کی 10 سالہ قید کی سزا کو بھٹو صاحب نے بڑھا کر ’سزائے موت‘ میں تبدیل کر دیا جس کا مقصد حیدرآباد سازش کیس کے ملزمان کو سخت ترین سزائیں دلوانا تھا۔
نقی صاحب نے اس وقت خاموشی اختیار کرنے کے بجائے بھٹو صاحب کو طنزیہ انداز میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا ’آپ نے تو واقعی بڑا کارنامہ انجام دیا ہے!‘
نقی صاحب کے نزدیک یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھٹو صاحب نے سیاسی مفادات کے لیے انہی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کیا جنہوں نے انجام کار نہ صرف ان کی حکومت کا تختہ الٹا بلکہ ان کے خاندان کو بھی مٹا دیا۔
حسین نقی صاحب نے میڈیا مالکان کے بدلتے ہوئے رویوں کو ایک چشم کشا واقعے کے ذریعے بیان کیا۔
وہ انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ (The News) کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور یہ وہ وقت تھا جب (جنگ جیو گروپ کے مالک) خود میر شکیل الرحمان نے چار مرتبہ ان کے گھر آ کر یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اخبار کی پالیسی اور ادارتی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کریں گے۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ وعدے ہوا ہو گئے۔
نقی صاحب نے انکشاف کیا کہ جب بعد میں ایک ٹی وی پروگرام میں انہیں مدعو کیا گیا تو میر شکیل نے اس پروگرام کے میزبان کو طلب کر کے سخت بازپرس کی کہ’تم نے حسین نقی کو پروگرام میں کیوں شامل کیا۔‘ میزبان کے دفاع کرنے پر میر شکیل کا جواب تھا کہ ’وہ تو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں ‘ اور ساتھ ہی ہدایت دی کہ آئندہ ایسی ’حرکت‘ نہیں ہونی چاہیے۔
موجودہ دور کے ٹی وی اینکرز کے بارے میں حسین نقی صاحب کی رائے کافی سخت ہے۔
ان کا موقف ہے کہ ’اینکرز اب صحافی سے زیادہ ’ایڈورٹائزمنٹ پروکیوررز‘ (اشتہارات حاصل کرنے والے ایجنٹ) بن چکے ہیں ۔‘
وہ مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اگر کسی اینکر کو 25 لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے تو وہ دراصل اس کا ’کمیشن‘ ہوتا ہے کیونکہ اس کے نیچے کام کرنے والے عام رپورٹر کو 25 ہزار روپے بھی نہیں مل رہے ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اینکرز کسی بھی اہم معاملے پر اسٹینڈ نہیں لیتے کیونکہ وہ ان مراعات اور پرولیجز کو کھونا نہیں چاہتے جو انہیں اس نظام سے مل رہی ہیں۔
آج کے دور میں جب ’پیکا ایکٹ‘ جیسے قوانین اور صحافیوں کی برطرفیوں اور گرفتاریوں کا بازار گرم ہے، نقی صاحب کا دو ٹوک موقف ہے کہ اب روایتی میڈیا ہاؤسز میں حقیقی صحافت کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ’چینل تو بالکل ہی صحافت کو افورڈ نہیں کر سکتا، وہ تو کروڑوں روپے کا کھیل ہے۔‘ ان کے نزدیک اب آزاد صحافت کا راستہ صرف ذاتی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
نئے آنے والے صحافیوں کو وہ تساہل پسندی ختم کرنے اور مطالعہ کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔
ان کے بقول’صحافی کے لیے پولیٹیکل ہسٹری پڑھنا بنیادی شرط ہے۔‘ وہ یاد دلاتے ہیں کہ واٹس ایپ ایک قابلِ اعتماد ذریعہ نہیں ہے اور اصل صحافت پریس ریلیز چھاپنے کا نام نہیں بلکہ خود مستند معلومات اکٹھی کرنے اور عوام تک پہنچانے کا نام ہے۔‘
نقی صاحب اپنے دور کی محنت کو مثال بناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ خبر کی تلاش میں سائیکل پر لاہور کے دور دراز علاقوں کا سفر کرتے تھے۔
ان کی گفتگو کا لبِ لباب یہی ہے کہ’ صحافت فیلڈ میں نکل کر معلومات اکٹھا کرنے اور محنت کرنے کا نام ہے۔‘

