امریکہ پولینڈ میں مزید 5000 فوجی بھیجے گا: صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن کا ملک پولینڈ میں مزید 5000 فوجی بھیجے گا-
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایک ہفتہ پہلے پولینڈ میں 4000 فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کر دیا تھا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ فیصلہ پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد پر کیا گیا ہے جن کی انھوں نے گذشتہ برس انتخابات میں حمایت کی تھی۔
امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ اضافی فوجی پہلے والے منصوبے کا حصہ ہیں یا کوئی نیا آپریشن ہے۔
حالیہ ہفتوں میں وائٹ ہاؤس یہ اشارہ دے چکا ہے کہ وہ اپنی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے تحت یورپ میں فوجیوں کی مجموعی تعداد کم کرنا چاہتا ہے۔ اسی مہینے امریکہ نے جرمنی سے 5000 فوجی واپس بلانے کا بھی اعلان کیا تھا، جو ایران کے معاملے پر جرمن چانسلر کے ساتھ اختلاف کے بعد کیا گیا۔
یہ واضح نہیں کہ پولینڈ بھیجے جانے والے اضافی فوجی جرمنی سے واپس آنے والوں میں سے ہیں یا کوئی الگ دستہ ہے۔
ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر بھی تنقید کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف دباؤ ڈالنے میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہے۔
یہ اعلان اس کے ایک ہفتے بعد آیا جب امریکی محکمہ دفاع نے اچانک پولینڈ میں 4000 فوجیوں کی تعیناتی روکنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ صرف عارضی تاخیر تھی اور امریکہ پولینڈ میں اپنی مضبوط فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔
پولینڈ کے صدر ناوروکی ٹرمپ کے قریبی حامی مانے جاتے ہیں اور ٹرمپ نے ان کی انتخابی مہم میں بھی حمایت کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ دنیا کے واحد لیڈر ہیں جو روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو روک سکتے ہیں اور یوکرین کی جنگ ختم کرا سکتے ہیں۔
اگرچہ صدر ٹرمپ پہلے نیٹو اور یورپی ممالک پر تنقید کرتے رہے ہیں، لیکن ناوروکی کا کہنا ہے کہ یورپ کی سلامتی کے لیے امریکہ اب بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
کچھ امریکی سیاستدانوں نے جرمنی سے فوج نکالنے کے فیصلے پر تنقید بھی کی ہے، کیونکہ ان کے مطابق اس سے روس کو غلط پیغام جا سکتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں امریکہ کے 36 ہزار سے زیادہ فوجی تعینات ہیں، جبکہ اٹلی اور برطانیہ میں یہ تعداد نسبتاً کم ہے۔