اہم خبریں

ایلون مسک کے ایکس کو آسٹریلیا میں‌ لاکھوں ڈالر جرمانہ کیوں‌ کیا گیا؟

مئی 22, 2026

ایلون مسک کے ایکس کو آسٹریلیا میں‌ لاکھوں ڈالر جرمانہ کیوں‌ کیا گیا؟

ایک آسٹریلوی عدالت نے امریکی کھرب پتی ایلون مسک کی کمپنی ایکس پر عائد جرمانے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے-
ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کمپنی نے بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق قوانین پر عمل نہ کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ اس طرح تین سال سے جاری قانونی تنازع ختم ہو گیا۔

آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر ای سیفٹی نے 2023 میں یہ جرمانہ لگایا تھا، کیونکہ سوشل میڈیا کمپنی نے اس سوال کا مناسب جواب نہیں دیا تھا کہ وہ بچوں کے آن لائن استحصال کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

تاہم ایکس کمپنی کا مؤقف تھا کہ اسے اس درخواست پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہ درخواست اس وقت کی گئی تھی جب کمپنی ابھی ٹوئٹر کے نام سے موجود تھی اور بعد میں ایکس میں ضم ہو گئی تھی۔

جمعرات کو کمپنی نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور عدالت نے اسے 650,000 آسٹریلوی ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ جج نے پہلے جرمانے کو بڑھا کر مقرر کیا اور ساتھ ہی کمپنی کو ریگولیٹر کے قانونی اخراجات کے لیے بھی 100,000 ڈالر ادا کرنے کا کہا۔

جج نے کہا کہ اتنی بڑی کمپنی کے لیے زیادہ جرمانہ ضروری ہے تاکہ یہ واقعی سزا کے طور پر اثر انداز ہو، نہ کہ صرف کاروبار کی لاگت بن کر رہ جائے۔

آسٹریلیا میں‌ اس سے پہلے بھی ایکس کے خلاف معاملات سامنے آتے رہے ہیں جیسا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی اور سڈنی میں ایک حملے کی ویڈیوز ہٹانے کے معاملے پر اختلاف ہوا تھا۔

ای سیفٹی کمشنر نے کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جوابدہ بنانے کے لیے شفافیت بہت ضروری ہے۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب فروری 2023 میں ٹوئٹر سے بچوں کے استحصال سے متعلق مواد روکنے کے اقدامات پر معلومات مانگی گئی تھی، اور بعد میں کمپنی ایکس میں ضم ہو گئی۔
عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی تھی کہ کمپنی کو یہ معلومات فراہم کرنی ہوں گی، اور اب دونوں فریقوں نے جرمانے پر اتفاق کر لیا ہے جسے 45 دن کے اندر ادا کرنا ہوگا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے