اہم

پاکستان، سعودی عرب اور قطر نے اسرائیل کو تسلیم نہ کیا تو تعلقات پر سنگین اثرات: امریکی سینیٹر

مئی 25, 2026

پاکستان، سعودی عرب اور قطر نے اسرائیل کو تسلیم نہ کیا تو تعلقات پر سنگین اثرات: امریکی سینیٹر

امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تنازع ختم ہونے کے نتیجے میں‌ اگر خطے کے عرب اور مسلم اتحادی ملک اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائیں تو یہ مشرق وسطیٰ کے لیے سب سے موثر معاہدہ ہو گا۔

سینیٹر گراہم نے اس سلسلے میں سعودی عرب، قطر اور پاکستان کا نام لیا ہے۔ لنزے گراہم نے اپنے پیغام میں خبردار کیا کہ اگر ان ممالک نے ایسا نہ کیا تو ’ہمارے مستقبل کے تعلقات پر اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔‘

رپبلکن پارٹی کے سینیٹر لنزے گراہم کو صدر ٹرمپ کے اہم اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے-
امریکی سینیٹر کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی، سعودی اور قطری صارفین اس پر ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور قطر سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر ایکس صارفین نے سینیٹر گراہم کے بیان پر تنقید کی ہے اور یہ سوال کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے اُن کے ملکوں‌پر دباؤ کیسے ڈال سکتے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں- انھوں نے ’مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک‘ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے تاریخی ابراہیم معاہدوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔

اتوار کو صدر ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب، ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں کے ساتھ فون پر گفتگو کی تھی جس میں پاکستان سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی عرب سے ولی عہد محمد بن سلمان شریک ہوئے تھے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے