جاپان نے انڈیا آموں کی درآمد پر پابندی لگا دی، وجہ کیا بنی؟
دو دہائیوں بعد جاپان نے ایک بار پھر انڈیا سے آموں کی درآمد روک دی ہے۔ یہ فیصلہ جاپان کی جانب سے انڈیا کی ٹریٹمنٹ سہولیات میں خامیاں پائے جانے کے بعد کیا گیا۔
جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی کیڑوں کے خاتمے کے عمل میں خامیوں کی نشاندہی کے بعد لگائی گئی ہے۔
انڈیا کو دنیا میں آموں کا سب سے بڑا پیداواری ملک قرار دیا جاتاہے جہاں آم کی لگ بھگ 1000 کے قریب اقسام پائی جاتی ہیں، جن کا ذائقہ دنیا کے کئی ممالک میں پسند کیا جاتا ہے۔
انڈین آموں کے مداح ممالک میں سے ایک جاپان ہے۔ لیکن رواں سال جاپان میں رہنے والے افراد آموں کا ذائقہ نہیں چکھ سکیں گے کیونکہ جاپان نے اس سال انڈیا سے آموں کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اس سے قبل 1980 کی دہائی میں بھی جاپان نے انڈیا سے آم خریدنے بند کر دیے تھے۔
یہ پابندی ایک احتیاطی اقدام کے طور پر عائد کی گئی تھی۔ جاپان کو خدشہ تھا کہ انڈیا سے پھلوں کے کیڑوں کے انڈے یا لاروے ان کے ملک تک پہنچ سکتے ہیں جس سے خود جاپانی زراعت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو سکتا تھا۔
جاپان ہر سال آم کے موسم میں اپنے معائنہ کار دہلی بھیجتا ہے۔ یہ اہلکار ’ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ‘ نامی ایک خصوصی عمل کے ذریعے آموں کا معائنہ کرتے ہیں۔
اس عمل کو آموں کو کیڑوں اور ان کے انڈوں سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں پھل کو ایک مخصوص مدت کے لیے گرم ہوا کے چیمبر میں رکھا جاتا ہے، جس سے پھل کے اندر موجود کیڑے اور لاروے ختم ہو جاتے ہیں۔
رواں برس جاپان کے معائنے کے دوران انڈیا میں آموں کے ٹریٹمنٹ کے عمل میں خامیاں پائی گئیں۔
اس کے بعد جاپان کی یوکوہاما پلانٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا اور انڈین آموں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا کہ جاپانی حکام کے مکمل طور پر مطمئن ہونے تک انڈیا سے آموں کی درآمد معطل رہے گی۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آموں کا عروج کا موسم جاری ہے۔
برآمد کنندگان پہلے ہی کئی ممالک میں جاری کشیدگی کے باعث متاثر ہیں۔ سمندری راستوں میں خلل کے باعث شپنگ انشورنس کی لاگت بڑھ گئی ہے، جس سے شپنگ کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا اثر نہ صرف آموں کی برآمد پر بلکہ دیگر اشیا کی برآمد پر بھی پڑ سکتا ہے۔

