کامیاب انرجی ڈپلومیسی، امریکہ نے کینیڈا سے نئی آئل پائپ لائن لانے کی منظوری دے دی
امریکہ نے کینیڈا سے خام تیل کی ترسیل کے لیے نئی آئل پائپ لائن منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جسے توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک ایگزیکٹو اقدام کے تحت “Bridger Pipeline Expansion” منصوبے کو آگے بڑھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت کینیڈین خام تیل کو امریکہ کی شمالی ریاستوں تک منتقل کیا جائے گا، جس میں مونٹانا اور وائومنگ کا علاقہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق یہ پائپ لائن منصوبہ خطے میں تیل کی ترسیل کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان توانائی تجارت میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ سپلائی چین بھی مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ ماضی میں زیرِ بحث رہنے والے Keystone XL منصوبے کے کچھ انفراسٹرکچر اور روٹس سے جزوی طور پر استفادہ کرے گا، تاہم موجودہ منصوبہ ایک نئے ڈھانچے اور اپڈیٹڈ روٹ پر مبنی ہے۔
کینیڈا کے توانائی حکام نے اس پیش رفت کو نوٹس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اپنی توانائی برآمدات کو مزید متنوع بنانے پر توجہ دے رہا ہے تاکہ صرف ایک مارکیٹ پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اوٹاوا میں حکام کے مطابق کینیڈا مستقبل میں یورپ اور ایشیائی مارکیٹس تک رسائی بڑھانے کے لیے متبادل راستوں پر بھی غور کر رہا ہے۔
توانائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اگرچہ معاشی طور پر دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، تاہم پالیسی سطح پر غیر یقینی صورتحال اب بھی موجود ہے کیونکہ توانائی منصوبوں پر حکومتی ترجیحات وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق کینیڈا کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی برآمدات کو متوازن رکھنا اور صرف امریکی مارکیٹ پر انحصار سے بچنا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گزشتہ عرصے سے اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے توانائی پالیسیوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے حالات میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبے عالمی معیشت اور توانائی سلامتی کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
Bridger Pipeline منصوبہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان توانائی تعاون میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس کے طویل مدتی اثرات کا انحصار عالمی سیاسی صورتحال، توانائی کی قیمتوں اور دونوں ممالک کی پالیسی ترجیحات پرہوگا-

