’فیصلہ کن مرحلہ اور پالیسی میں بڑی تبدیلی‘، اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ
اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں واقع سٹریٹیجک بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کر لیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوج کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں وہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر تعمیر کیے گئے قدیم قلعے کے کھنڈرات سے گزرتے ہیں اور وہاں پانچ تکونی پرچم لہرا دیتے ہیں۔
صلیبی دور کے قلعے پر قبضے کے بعد اتوار کے روز اسرائیل کے وزیر اعظم نے اسے ’ایک فیصلہ کن مرحلہ اور پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی‘ قرار دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل نے بیوفورٹ قلعے پر کنٹرول حاصل کیا ہو۔ 44 سال قبل بھی اسرائیلی فوج نے اس قلعے پر قبضہ کیا تھا۔
بنیامین نیتن یاہو نے کہا: ’ہم نے خوف کی رکاوٹ توڑ دی ہے۔ ہم اب پہل کر رہے ہیں۔ ہم شام میں، غزہ میں، لبنان میں، ہر محاذ پر سرگرم ہیں۔‘
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی زمینی فوجیں دریائے لیطانی کی اصل حد بندی سے آگے بڑھتے ہوئے لبنانی علاقے میں مزید اندر تک جا رہی ہیں۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اسرائیل کی جانب سے کشیدگی میں حالیہ اضافے پر تنقید کی، جبکہ اسرائیلی دفاعی فوج (آئی ڈی ایف) نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقے میں رہنے والے مزید شہریوں کو انخلا کی وارننگ دی۔ لبنان کے وزیر اعظم نے اسرائیل پر ’اجتماعی سزا‘ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق صلیبی جنگوں کے دور 11 ویں صدی کے اواخر سے 13 ویں صدی تک، یورپی افواج نے خطے میں پہاڑی قلعوں کی ایک زنجیر تعمیر کی، جو ساحلی علاقوں سے لے کر شہروں تک کے راستوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ بیوفورٹ ان میں سے ایک اہم قلعہ بن گیا۔ تقریباً 1190 میں صلاح الدین نے صلیبی افواج کو شکست دے کر اسے فتح کیا۔
قدیم یورپی تاریخ میں اس مقام کا نام بیوفورٹ آتا ہے، یہ ایک فرانسیسی لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’خوبصورت قلعہ‘۔ اس کا عربی نام قلعۃ الشقیف یا شقيف ارنون ہے، جس کا مطلب بلند چٹان کا قلعہ ہے۔
اس کی تاریخ اس کے منفرد طرزِ تعمیر میں بھی جھلکتی ہے جو صلیبی دور کے یورپی فنِ تعمیر اور مشرقی اسلامی عناصر کا امتزاج ہے۔ اور 2024 سے بیوفورٹ کو ان آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا تھا جنھیں ثقافتی املاک کی حفاطت کے لیے بنائے گئے ہیگ کنونشن کے تحت تحفظ دیا جاتا ہے۔

