اہم خبریں

کینیڈا میں پولیس تحقیقات کا نیا بحران: مجرم کو سزا یا سورس کا تحفظ؟ ٹیکنالوجی نے دوراھے پر کھڑا کر دیا

جون 7, 2026

کینیڈا میں پولیس تحقیقات کا نیا بحران: مجرم کو سزا یا سورس کا تحفظ؟ ٹیکنالوجی نے دوراھے پر کھڑا کر دیا

سہیل طارق، کینیڈا

کینیڈا میں ایک نئی بحث اور نیا چیلنج سامنے آ رہا ہے- یہ بحث اور چیلنج پولیس ڈیپارٹمنٹ کی تحقیقات سے متعلق ہے- پولیس کو یہ نیا چیلنج درپیش ہے کہ آیا سورس کو تحفظ دیا جائے یا پھر مجرم کو سزا دلوائی جائے؟

پولیس کا محکمہ پراسیکیوشن کے شعبے کے ساتھ کچھ ایسے معاملات طے کرنا چاہتی ہے کہ اگر عدالت کے اندر پولیس مجبور ہو جائے کہ اسے اپنے ٹریکنگ حالات کی تفصیلات بتانی پڑے تو تو پراسیکیوشن کیس واپس لے لے گی- اس صورتحال میں پولیس چاہے گی ملزم بے شک بری ہو جائے لیکن ان کی جاسوسی حالات فراہم کرنے وا لی کمپنی کو محفوظ رہنا چاہیے-

ونسر پولیس نے گاڑیاں چوری کرنے والا ایک بڑا گروہ پکڑا ہے اور جس طریقے سے پکڑا ہے وہ آج کل زیر بحث ہے کہ کیا پولیس کوئی الیکٹرانک ڈیوائس لگا کر کسی کی ٹریکنگ کر سکتی ہے یا نہیں؟ کیا پولیس کسی کے لیپ ٹاپ موبائل یا اس کے گھر تک رسائی حاصل کر کے اس کی ٹریکنگ کر سکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر پولیس ایسا کرتی ہے تو اس کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور کیوں یہ طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت پیش آئی؟ کیا آلات استعمال کیے گیے؟

عدالتوں میں ملزمان کے وکلاء اب یہ سوال کرتے ہیں کہ انہیں بتایا جائے کہ کس طرح سے اور کیا طریقہ اختیار کیا گیا؟ ملزم پر جو الزام لگایا گیا ہے وہ کن شواہد کی بنیاد پر لگا یا گیا ہے جن کی بنیاد پر پراسیکیوشن ان کے کلائنٹس کو سزا دلوانا چاہتی ہے؟

کینیڈا میں کسی بھی ملزم کی سماعت یا ٹرائل سے پہلے اس کا حق ہے کہ اسے پولیس ڈیپارٹمنٹ ڈسکلوژر( disclosure) دے گا کہ پولیس افیسر نے کیوں ضروری سمجھا کہ اسے چارج کرے، کیا شواہد ہیں اور وہ شواہد حاصل کرنے کا کیا طریقہ اختیار کیا گیا؟

پولیس نے مختلف جرائم خاص طور پر گاڑیاں چوری کرنے والے گرو کی ٹریکنگ تو کر لی لیکن اب یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ کس طرح سے ڈسکلوژر دیا جائے- اگر پولیس ڈسکلوژر دے گی تو انہیں اس کا وہ سورس بتانا پڑے گا جس کی مدد سے پولیس کارروائی کرنے میں کامیاب ہوئی اور اگر پولیس سورس بتائے گی تو پھر اس کمپنی کا بھی نام آئے گا جس نے وہ تمام آلات فراہم کیے-

کینیڈا کی رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) جب ٹریکنگ آلات کا استعمال کرتی ہے تو ایک کیس کے لیے رپورٹس کے مطابق پانچ لاکھ ڈالر تک کا خرچہ اتا ہے- اتنے اخراجات کرنے کے بعد اگر پولیس کو کیس واپس لینا پڑے تو یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بنتا ہے، پولیس کی کارکردگی پر بھی اور نظام کی کارکردگی پر بھی- تا حال اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم یہ پولیس کے لیے جدید دور میں ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے جہاں پر آلات کے ذریعے ٹریکنگ تو ممکن ہے لیکن عدالت کے اندر وہ شواہد کتنے کارگر ثابت ہوں گے یہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے اور یہ آلات فراہم کرنے والے کمپنی کا تحفظ بھی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے