اہم خبریں

افغان طالبان نے 10 ارب روپے مانگے اور دینے کے لیے تیار تھے مگر: پاکستانی وزیر دفاع

جون 16, 2026

افغان طالبان نے 10 ارب روپے مانگے اور دینے کے لیے تیار تھے مگر: پاکستانی وزیر دفاع

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے جنگجوؤں کی نقل مکانی کے لیے 10 ارب روپے مانگے تھے-

منگل کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیں اور شاید اسلام آباد براہ راست کابل سے بات نہیں کر رہا۔

انہوں نے افغان طالبان پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ’دہشتگردی‘ افغانستان سے ہو رہی ہے۔

’میں دو مرتبہ خود کابل گیا ہوں تین سال پرانی بات ہے، میرے ساتھ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی بھی تھے۔ وہ (طالبان حکام) ہر بات مانتے تھے لیکن اصرار کر تے تھے کہ ہم لکھ کر کچھ نہیں دے سکتے۔‘

خواجہ آصف کے مطابق اس کے علاوہ پاکستان نے ترکی اور قطر میں بھی افغان طالبان سے مذاکرات کیے۔

خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان حکام نے ان سے جنگجوؤں کی نقل مکانی کے لیے 10 ارب روپے مانگے تھے، جو پاکستان دینے کے لیے تیار تھا۔ ’لیکن ہم ضمانت چاہتے تھے کہ یہ لوگ اگر کہیں دور دراز علاقوں میں لے جائے بھی جاتے ہیں، تو کہیں یہ دوبارہ ہماری سرحد کے قریب آ کر تو نہیں بیٹھ جائیں گے۔‘

خواجہ آصف نے بتایا کہ ’سنہ 2022 سے اب تک دہشتگردی کی جنگ کے دوران 4317 جوان شہید ہو چکے ہیں، جن میں ہمارے فوجی اہلکار بھی شامل ہیں اور سویلین بھی۔‘

پاکستانی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’یہ بہت بڑی قربانی ہے۔ یہ کن کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں؟ وہ لوگ جو 45 سال ہمارے مہمان رہے۔ انھوں نے میری، آپ کی اور سب کی مٹی کا نمک کھایا ہے۔ یہ گلے کاٹتے ہیں مسجدوں میں، امام بارگاہوں میں۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات گذشتہ برس سے شدید تناؤ کا شکار ہیں اور دونوں کے درمیان سرحد پر جھڑپیں متعدد جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔

اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغانستان نے اپنی سرزمین پر پاکستان مخالف گروہوں کو پناہ دی ہوئی ہے، جبکہ افغان طالبان ان دعوؤں کی تردید کرتے آئے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے