اہم خبریں

سی سی ڈی اہلکار کی بے دریغ فائرنگ کا نشانہ بنے، مقتولہ ہانیہ کے والد کا بیان

جون 17, 2026

سی سی ڈی اہلکار کی بے دریغ فائرنگ کا نشانہ بنے، مقتولہ ہانیہ کے والد کا بیان

آسٹریلیا سے چکوال آ کر گولیوں کا نشانہ بننے والے شہری نے اپنی بیٹی کے قتل کا الزام پنجاب کے محکمہ انسداد جرائم پر عائد کیا ہے-

ہانیہ احمد کے والد نے اس واقعے پر سوال اٹھایا ہے جس میں ان کی بیٹی ہلاک ہوئی، اور الزام لگایا کہ اہلکاروں نے مشتبہ ڈاکوؤں کی طرف سے کوئی گولی چلائے بغیر ہی ان کے خاندان کی گاڑی پر گولیاں چلائیں۔

ہسپتال سے انگریزی روزنامے کے رپورٹر سے گفتگو میں‌ عدیل احمد نے بتایا کہ وہ، ان کی بیوی اور بچے ایک رشتہ دار کے گھر کے باہر ڈکیتی کا شکار ہو رہے تھے جب سی سی ڈی کے اہلکاروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکوؤں نے صرف دو گولیاں چلائیں اور فرار ہو گئے، جبکہ سی سی ڈی کے اہلکار نے فائرنگ جاری رکھی، جس سے ان کی بیٹی ہانیہ ہلاک اور وہ اور ان کا 11 سالہ بیٹا زخمی ہو گئے۔

عدیل احمد نے کہا کہ ”سی سی ڈی نے ڈاکوؤں کی بجائے ہماری گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اگر میں گاڑی نہ بھگاتا تو وہ ہم سب کو مار دیتے،“

انہوں‌ نے کہا کہ یہ المیہ اس وقت ٹالا جا سکتا تھا اگر اہلکاروں نے اُن کے خاندان کو خطرے سے نکالنے کے بعد مشتبہ افراد کا پیچھا کیا ہوتا۔

اس واقعے کے بعد آسٹریلوی وزیراعظم نے پاکستان سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاہم پنجاب حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے اس محکمے پر ماورائے عدالت قتل کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں-

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ اس محکمے نے 900 افراد کو ماورائے عدالت مشکوک حالات میں‌ قتل کیا-

ہانیہ احمد کے قتل کے بعد اس محکمے کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے چکوال میں‌ متاثرہ خاندان کے گھر میں‌ گفتگو کے دوران الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تاہم سوشل میڈیا پر ان کو شدید تنقید کا سامنا ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے