’سٹریٹیجک اخراجات‘، بلوچستان نے وفاق کو 97 ارب کے بجائے 58 ارب پر راضی کر لیا
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے کہا ہے کہ وفاق کو اس بات پر آمادہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے سٹریٹیجک اخراجات کی مد میں بلوچستان کا حصہ کم رکھے۔
اس مد میں وفاق نے تمام صوبوں سے بڑی رقوم طلب کی ہیں اور پنجاب حکومت پر اپنا حصہ چھوڑنے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے-
وفاقی حکومت کے سٹریٹیجک اخراجات کے لیے پنجاب کا حصہ 550 ارب روپے، سندھ کا حصہ 263ارب روپے جبکہ خیبر پختونخوا کا حصہ 157ارب روپے ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بتایا کیا کہ وفاقی حکومت اپنے سٹریٹیجک اختیارات کے لیے صوبوں سے جس شرح سے رقم طلب کر رہی تھی اس میں پہلے بلوچستان کا حصہ 97 ارب روپے رکھا گیا تھا۔
صوبائی وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ وزیراعلی سرفراز بگٹی نے وفاقی حکومت کی اہم شخصیات سے رابطہ کر کے آگاہ کیا کہ بلوچستان اتنی بڑی برقم دینے کی پوزیشن میں نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوششوں سے وفاق بلوچستان کے حصے کو کم کر کے 58 ارب روپے کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے اخراجات کے لیے صوبوں سے رقم طلب کی ہے۔