جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو تنصیبات کے معائنے کی دعوت نہیں دی: ایران
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی دعوت دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے یہ دعویٰ کیا کہ ’بعض ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی یہ رپورٹس بے بنیاد ہیں کہ ایران نے آئی اے ای اے کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے مدعو کیا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شق 8 کے مطابق جوہری معاملے پر مذاکرات 60 روزہ مدت کے اندر ہوں گے، بشرطیکہ دستاویز کی شق 13 میں درج مذاکرات کے آغاز کی تمام پیشگی شرائط پوری کی جائیں۔
بقائی کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی شق 9 یہ واضح کرتی ہے کہ 60 روزہ مدت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسی بنیاد پر بوشہر جیسے جوہری مراکز میں جاری معائنہ کا عمل معمول کے مطابق جاری رہے گا، تاہم ان تنصیبات کے معائنے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث آئی اے ای اے کی رسائی معطل کر دی گئی تھی مذاکراتی عمل اور اس کے نتائج سے مشروط ہوں گے۔
ایرانی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ مذکورہ تنصیبات سے متعلق کسی بھی قسم کی آئندہ پیش رفت جاری مذاکرات اور ان کے حتمی نتائج کے مطابق طے کی جائے گی۔

