وینزویلا میں دو شدید زلزلوں کے بعد ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ
وینزویلا میں ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں آنے والے 7.2 اور 7٫5 شدت کے زلزوں کے بعد حکومت نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
ان زلزلوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دوسرے زلزلے کے بعد 44 فیصد امکان ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے زائد ہو سکتی ہے۔
وینزویلا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں زلزلے نسبتاً زیادہ آتے ہیں، کیونکہ یہاں دو ٹیکٹونک پلیٹس — کیریبین پلیٹ اور جنوبی امریکی پلیٹ — آپس میں ملتی ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق آج آنے والے دو زلزلوں میں سے دوسرا اور زیادہ طاقتور زلزلہ ان پلیٹس کی سرحد کے قریب ’سطحی سٹرائیک سلِپ فالٹنگ‘ کے نتیجے میں آیا۔
یہ اس وقت ہوتا ہے جب فالٹس یا پلیٹس کے درمیان دراڑیں اوپر کی سمت میں حرکت کرتی ہیں۔ جب یہ حرکت تیزی سے ہوتی ہے تو زلزلہ پیدا ہوتا ہے۔
یو ایس جی ایس کے مطابق ’اگرچہ زلزلوں کو عموماً نقشوں پر ایک نقطے کے طور پر دکھایا جاتا ہے، لیکن اس شدت کے زلزلے دراصل ایک بڑے فالٹ کے حصے میں پھسلاؤ (سلِپ) کی وجہ سے ہوتے ہیں۔‘
ادارے کا کہنا ہے کہ آج کے زلزلے غالباً ’پیچیدہ شگاف اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل‘ کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اب بھی آفٹر شاکس آنے کا امکان ہے جن میں ’کچھ ممکنہ طور پر شدید بھی ہو سکتے ہیں۔‘
مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ وینزویلا میں آنے والے دو زلزلوں نے کی شدت بہت زیادی تھی اور ان کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ مدد کے لیے تیار، پرعزم اور مکمل صلاحیت رکھتا ہے-‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ’حکومت کے تمام اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری کارروائی کے لیے تیار رہیں۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم اپنے نئے اور عظیم دوستوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ابتدائی طور پر موصول ہونے والی اطلاعات اچھی نہیں-‘