انڈیا کے تاریخی لوہ گڑھ قلعے میں مقامی بزنس ٹائیکون کے بیٹے کا منگیتر کے ہاتھوں قتل
انڈیا میں بزنس ٹائیکون کے 25 سالہ بیٹے کیتن اگروال کی منگیتر کے ہاتھوں تاریخی قلعے میں موت سوشل میڈیا پر زیرِبحث ہے، ملزمہ کی عمر 20 برس ہے۔
دونوں کی شادی دھوم دھام سے کرانے کے لیے مقتول کے خاندان نے دسیوں لاکھ روپے سے ایک محل کی بکنگ کرا رکھی تھی-
قتل کا یہ واقعہ انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں تاریخی لوہ گڑھ قلعے میں 18 جون کو پیش آیا تھا-
ابتدائی طور پر لڑکی نے کہا تھا کہ اُن کا منگیتر پاؤں پھسلنے سے گر کر ہلاک ہوا تاہم بعد میں تفتیش کاروں کو معلوم ہوا کہ اسے دھکا دے کر قتل کیا گیا۔
پولیس حکام نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزمہ نے اپنے بوائے فرینڈ کی مدد سے منگیتر کو لوہ گڑھ قلعے سے دھکا دے کر قتل کیا اور اسے ایک حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
حکام کے مطابق تفتیش کے دوران خاتون کے ایک مبینہ بوائے فرینڈ کے بارے میں معلومات سامنے آئیں۔
پولیس کو تفتیش کے دوران پتا چلا کہ ان دونوں کا پرانا تعلق تھا، جس کے بعد کیتن اگروال کی موت کا مقدمہ قتل کے طور پر درج کیا گیا۔
پونے شہر سے تقریباً 52 کلومیٹر کے فاصلے پر اور لوناؤلہ ہل اسٹیشن سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر لوہ گڑھ قلعہ سطح سمندر سے تقریباً 3400 فٹ کی بلندی پر ایک خوبصورت پہاڑی پر واقع ہے۔
یہ ریاست مہاراشٹر کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے۔ لوہ گڑھ قلعہ نے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں بھی جگہ بنائی ہے۔
اس قلعہ میں قدیم فن تعمیر اور فطری حسن کا بہترین امتزاج دیکھا جا سکتا ہے۔ لوہ گڑھ قلعہ ٹریکنگ اور فطرت سے محبت کرنے والوں کے لئے ایک مثالی جگہ ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وہی قلعہ ہے جس میں چھترپتی شیواجی مہاراج اپنا خزانہ رکھا کرتے تھے۔ لوہ گڑھ قلعہ کی جڑیں اپنے پڑوسی ویسا پور قلعہ سے ملتی ہیں۔
لوہ گڑھ قلعہ 18ویں صدی کا ایک عظیم تاریخی اہمیت کا حامل قلعہ ہے۔ مختلف اوقات میں کئی شاہی خاندانوں کے لئے طاقت کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ ان میں اہم شاہی خاندانوں میں بہمنی، نظام، مغل، یادو اور مراٹھا وغیرہ شامل تھے۔ ۱۶۴۸ء میں چھترپتی شیواجی مہاراج نے اس قلعے کو فتح کر کے اپنے قبضے میں لے لیا تھا لیکن ۱۶۶۵ء میں پورندر معاہدے کے تحت یہ قلعہ مغلوں کے قبضے میں آ گیا تھا۔
لوہ گڑھ قلعہ کے چار داخلی دروازے ہیں جنہیں گنیش دروازہ، نارائن دروازہ، ہنومان دروازہ اور مہا دروازہ کہا جاتا ہے۔ مرکزی دروازے پر کچھ خوبصورت تراشے ہوئے مجسمے دیکھے جا سکتے ہیں۔

