اہم خبریں

فرانس میں‌ گرمی سے تنگ 40 افراد ڈوب کر ہلاک، یورپ کا ’ہیٹ ڈوم‘ کیا ہے؟

جون 25, 2026

فرانس میں‌ گرمی سے تنگ 40 افراد ڈوب کر ہلاک، یورپ کا ’ہیٹ ڈوم‘ کیا ہے؟

فرانس کے آدھے سے زائد علاقوں میں اس وقت انتہائی درجے کا موسمی الرٹ نافذ ہے اور سینکڑوں سکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

برطانیہ، سپین اور فرانس سمیت مغربی اور وسطی یورپ کے ممالک نے گرمی کی شدت میں مزید اضافے اور درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کے امکانات کے پیش نظر ریڈ الرٹس جاری کیے ہیں۔

فرانس میں رواں برس کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 44 ڈگری سیلسیئس پیسوس کے علاقے میں ریکارڈ کیا گیا ہے-
حکام کے مطابق حالیہ دنوں کے دوران ایسے مقامات جہاں نگرانی نہیں ہوتی، وہاں گرمی بھگانے کے لیے تیراکی کے دوران کم از کم 40 افراد کے ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں۔

فرانسیسی وزیرِ کھیل و امورِ نوجوانان مارینا فیراری نے فرانسیسی ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ ’ہیٹ ویو کے دوران ایسے مقامات پر تیراکی کرنا جہاں نگرانی کا نظام موجود نہیں کوئی معمولی معاملہ نہیں۔‘

مارینا فیراری کہا کہ بہت سے لوگ ممکنہ خطرات کا جائزہ لیے بغیر گرمی میں ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے دریاؤں اور نہروں میں اتر رہے تھے۔

درجہ حرارت میں اس اضافے کی ایک فوری وجہ ’ہیٹ ڈوم‘ قرار دی جاتی ہے-

ماحولیاتی ماہرین اور موسمیات کے محکمے کے عہدیدار کہتے ہیں کہ گرم ہوا جو صحرائے صحارا سے شمال کی طرف بڑھتی ہے اور یورپ کے اوپر آ کر ’پھنس‘ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں یہاں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس ہوا کو ایک طاقتور بلند دباؤ کے نظام سے تقویت ملتی ہے جسے ’افریقی اینٹی سائیکلون‘ کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر دیوراس کہتے ہیں کہ ’ہیٹ ڈوم‘ کو ’ایک بہت بڑے فضائی گنبد کے طور پر تصور کریں، جو بادلوں کی تشکیل کو روک دیتا ہے اور سورج کی بے رحمانہ تپش کو دن بہ دن زمین کو گرم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے