نئی موٹروے کا 205 ارب کا ٹھیکہ اور خواجہ آصف کو ایمل ولی کا جواب
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پنجاب میں 205 ارب روپے سے نئی موٹروے بنائے جانے پر ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم-13 موٹروے سے فاصلہ 100 کلومیٹر کم اور سفر کا وقت ایک گھنٹہ مختصر ہو جائے گا-
ان کا کہنا تھا کہ ایک نئے دور اور سٹریٹجک کنیکٹیویٹی کا آغاز ہے-
روزنامہ ڈان کی جمعرات کو شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق اس موٹروے کا ٹھیکہ بغیر کسی بولی یا نیلامی کے فوجی کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن یعنی ایف ڈبلیو او کو دیا گیا ہے- نیشنل ہائی وے اتھارٹی یعنی این ایچ اے نے اس کی وجہ فوری تعمیر بتائی ہے-
وزیر دفاع نے ایکس پر لکھا کہ:
موٹروے ایم-13 کھاریاں–راولپنڈی، ایس آئی ایف سی کی قیادت میں مستحکم ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی کوششوں کے ذریعے، پروجیکٹ نے ایک جامع تبدیلی کا سامنا کیا اور اسے 117 کلومیٹر جبکہ 6 لین موٹروے میں اپ گریڈ کیا گیا۔
خواجہ آصف کے مطابق یہ صرف ایک اور موٹروے نہیں ہے—یہ موجودہ ایم-2 موٹروے کے لیے ایک سٹریٹجک متبادل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور اور راولپنڈی/اسلام آباد کے درمیان تقریباً 100 کلومیٹر کم فاصلہ، سفر کے وقت میں تقریباً 1 گھنٹہ کمی اور ایک جدید چھ لین موٹروے جو زیادہ رفتار اور موثر سفر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جبکہ بہتر لاجسٹکس، کم تر ٹرانسپورٹ اخراجات اور علاقائی کنیکٹیویٹی میں اضافہ ہوگا-
وزیر دفاع کے اس بیان پر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے اُن کو ری پوسٹ کر کے لکھا کہ:
پیارے انکل ! پاکستان میں ہر بڑے ترقیاتی منصوبے میں پنجاب کیوں اتنا زیادہ فوکس ہوتا ہے؟ نئی M-13 کھاریاں-راولپنڈی موٹروے اور پنجاب کے انفراسٹرکچر میں اربوں روپے ڈالے جا رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان بنیادی رابطے، ٹوٹے ہوئے راستوں، سڑکوں اور معاشی مسائل سے نمٹ رہے ہیں۔
ایمل ولی نے مزید لکھا کہ کسی بھی فعال ملک میں وسائل زیادہ ترقی یافتہ علاقوں سے جمع کیے جاتے ہیں اور سوچ سمجھ کر پسماندہ علاقوں میں لگائے جاتے ہیں تاکہ پیچھے رہ جانے والے علاقے بھی ترقی کر سکیں اور پورا ملک ایک ساتھ آگے بڑھے۔ پاکستان میں تو بالکل الٹا ہے: پنجاب، جو پہلے ہی نسبتا بہتر ہے، اسے مزید سہولیات اور جدیدیت دی جا رہی ہے اور یہ سب چھوٹے اور مشکلات سے نمٹتے صوبوں کی قیمت پر ہو رہا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ آپ صرف طاقت یا تقریروں کے ذریعے دیرپا سلامتی اور امن حاصل نہیں کر سکتے۔ اقتصادی انصاف اور متوازن ترقی کے بغیر محرومی کا احساس مزید گہرا ہی ہوگا۔

