امریکہ سے تجارتی معاہدہ ٹیرف میں تقابلی برتری کی ضمانت سے مشروط ہے، انڈیا
انڈیا کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ دہلی، واشنگٹن کے ساتھ مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کرے گا جب تک انڈین برآمدات کے لیے ٹیرف میں تقابلی برتری کی ضمانت دینے والا فریم ورک طے نہیں پا جاتا۔
لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ ’ایک آزاد تجارتی معاہدے کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے حریفوں پر برتری حاصل ہو۔‘
فروری میں انڈیا اور امریکہ کے درمیان اعلان کیے گئے عبوری تجارتی معاہدے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’یقیناً ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے تاکہ ہم اس معاہدے کو نافذ کر سکیں جس پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔‘
پیوش گوئل نے کہا کہ اس ممکنہ معاہدے کے تحت امریکہ کو انڈیا کو ایسے فوائد دینا ہوں گے جو ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، انڈونیشیا، ملائیشیا، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر ہمسایہ ممالک کو حاصل مراعات سے بہتر ہوں۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انڈیا اور امریکہ نے عبوری تجارتی معاہدے پر پیش رفت کا جائزہ لیا ہے، جس میں مارکیٹ تک رسائی، ڈیجیٹل تجارت اور سپلائی چینز جیسے شعبے شامل ہیں۔
دونوں ممالک 24 جولائی کی ڈیڈ لائن سے قبل معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں، جو واشنگٹن کی جانب سے عائد عارضی 10 فیصد ٹیرف کے خاتمے کی تاریخ ہے۔