کراچی کے علی مرتضیٰ کی کوئٹہ کی سیاحت کے بعد فائرنگ میں موت، واقعہ کیسے پیش آیا؟
کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو بلوچستان میں چھٹیاں گزارنے کے بعد کوئٹہ سے واپسی پر رات کو نشانہ بنایا گیا ہے-
مقامی افراد کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں خاندان کے سربراہ علی مرتضیٰ کی موت ہو گئی جبکہ ان کی اہلیہ عائشہ جاویدشدید زخمی ہیں- دونوں کی معصوم بیٹاں واقعے میں محفوظ رہیں تاہم ٹراما سے گزر رہی ہیں-
بتایا جا رہا ہے کہ علی مرتضٰی کوئٹہ کی سیر کے بعد اپنے ایک دوست کے گھر رات کا کھانا رکے تھے اور لگ بھگ گیارہ بجے وہاں سے روانہ ہوئے-
اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یہ مختصر خاندان اپنی سوزوکی آلٹو کار میں کراچی روانہ ہوتے وقت مرکزی شاہراہ سے راستہ بھٹک گیا- خیال کیا جاتا ہے کہ گوگل میپ کی غلطی یا اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق علی مرتضٰی نے بڑی شاہراہ کے بجائے دوسرے راستے کا انتخاب کیا-
کوئٹہ سے کراچی شاہراہ لک پاس کے راستے مستونگ اور خضدار سے ہو کر جاتی ہے جو قدرے محفوظ تصور ہوتی ہے تاہم بدقسمت خاندان اندرونی سڑکوں پر بھٹک کر خطرناک اور شورش زدہ علاقے میں چلا گیا-
جس جگہ علی مرتضٰی کی کار فائرنگ کا نشانہ بنی وہ رات کے وقت سفر کے لیے انتہائی ناموزوں علاقہ سمجھا جاتا ہے بلکہ مقامی افراد کے مطابق وہاں دن کے وقت بھی غیرمقامی لوگ جانے سے گریز کرتے ہیں-
علی مرتضٰی کے ایک میزبان نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ شاید راستہ بھٹک جانے کے بعد وہ رات بارہ بجے کے لگ بھگ مرکزی شاہراہ کی طرف واپس جانے کے لیے اس کچے راستے پر گوگل میپ کے ذریعے گئے ہوں گے-
عینی شاہدین کے سامنے نہ آنے اور بچوں کے کم عمر ہونے کی وجہ سے سمجھ نہ ہونے پر خیال کیا جا رہا ہے کہ اس علاقے میں مسلح افراد نے کار کو روکنے کی کوشش کی اور واپس موڑنے کے دوران فائرنگ کی گئی-
اس واقعے میں مارے جانے والے علی مرتضٰی کراچی میں موبائل فون کے کاروبار سے منسلک تھے-
سوشل میڈیا پر کار اور دہشت زدہ معصوم بچیوں کی تصاویر شیئر کر کے صارفین اپنے صدمے کا اظہا کر رہے ہیں-

