پاکستان کا افغانستان میں اہداف کو نشانہ بنانے جبکہ طالبان حکومت کا شہری ہلاکتوں کا دعویٰ
پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ’مستند انٹیلی جنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر اتوار کی شب پاکستانی فورسز نے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان نے اس کارروائی کو ’بزدلانہ‘ اور ’سفاکانہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان فوج کے فضائی حملوں میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افغان شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کے ان مراکز میں موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی جانب سے جاری ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات اور سنیچر کی شب کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کے بعد دو مختلف کارروائیوں میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
پاکستانی وزیر اطلاعات کے مطابق 28 جون (اتوار) کو ہی سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں افغان سرحد کے قریب شدت پسندوں کے ایک گروہ کے خلاف بھی انٹیلیجنس بنیادوں پر زمینی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں شدت پسند کمانڈر خان فروش عرف زبل سمیت کالعدم جماعت الاحرار سے تعلق رکھنے والے مزید تین شدت پسندوں کو ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔
اُدھر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر چند زخمی بچوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم جارحیت کے اس بزدلانہ فعل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اسے ایک جرم اور سفاکانہ فعل سمجھتے ہیں۔‘ طالبان ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں پکتیکا کے علاقے جانی، پکتیا کے علاقے سمکانی اور کنڑ کے علاقے منورہ میں عام شہری آبادیوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے سرکاری سطح پر ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔