اہم خبریں

پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابی اتحاد کا اعلان

جولائی 1, 2026

پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابی اتحاد کا اعلان

پاکستان میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستانی کشمیر میں آئندہ انتخابات کے لیے انتخابی اتحاد کا اعلان کیا ہے جبکہ وہاں کی صورتحال کے حل کے لیے مذاکرات پر بھی زور دیا ہے۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) آزاد کشمیر کے آنے والے انتخابات مشترکہ طور پر لڑیں گے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ کشمیر میں جے یو آئی (ف) کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے۔

مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا کہ اگر ان کی جماعت کا ’آزاد کشمیر چیپٹر پیپلز پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کرتی ہے تو وہ اس کی مکمل حمایت کریں گے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن نے ریاست بھر میں عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق عام انتخابات 27 جولائی کو منقعد ہوں گے۔ اس خطے کے الیکشن کمشنر غلام مصطفی مغل کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کو پر امن اور شفاف بنانے کے لیے فوج اور رینجرز کی مدد طلب کر لی گئی ہے۔ ‘

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ ان سے کشمیر میں جاری صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے ملے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کو احتجاجی تحریکوں کا وسیع تجربہ ہے۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے کشمیر میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بحران کے حل میں کردار ادا کرنے کے لیے ان سے رجوع کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی ثالثی کی پیشکش کے بعد کمیٹی نے ایک وفد بھی بھیجا اور باضابطہ طور پر ثالثی کی درخواست کی۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بلاول بھٹو نے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود پارلیمان میں ان کی ثالثی کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم کو بھی مشترکہ پیغام دے رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ’شہباز شریف آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے مثبت اقدامات کریں گے۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں کی حمایت کرے۔ ان کے بقول کشمیر میں انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے اور وہ شفاف اور منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں۔

انھوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرے۔

کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ اس نوعیت کا مواد قابلِ مذمت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر مسئلے کا حل بات چیت سے نکلتا ہے اور سیاسی تنازعات صرف سیاسی طریقوں سے ہی حل کیے جا سکتے ہیں، اسی لیے اس معاملے کو بھی سیاسی انداز میں نمٹانا ہوگا۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ یہ معاملہ تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ نشستیں نہ احتجاج سے ختم ہوں گی اور نہ ہی دھرنوں سے، بلکہ اس کا واحد حل اسمبلی کے ذریعے آئینی ترمیم ہے۔

بلاول بھٹو نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے حال ہی میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو شرکت کی دعوت دی تھی، تاہم اس گروپ نے شرکت نہیں کی۔

آخر میں انھوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کی قیمت انھیں ذاتی طور پر ادا ہی کیوں نہ کرنی پڑے، اور یہ کہ کشمیر کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچ چکا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے