اہم

کرپٹو میں‌سرمایہ کاری، لاہور میں‌ دو غیرملکی خواتین کے اغواکاروں نے کیا بتایا؟

جولائی 3, 2026

کرپٹو میں‌سرمایہ کاری، لاہور میں‌ دو غیرملکی خواتین کے اغواکاروں نے کیا بتایا؟

پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس نے مبینہ طور پر اغوا کی گئی دو خواتین کو بازیاب کروا کر چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جس کے بعد معلوم ہوا ہے کہ یہ معاملہ بیرون ملک کرپٹو کرنسی میں‌سرمایہ کاری سے شروع ہوا تھا-

لاہور پولیس کے حکام کے مطابق جب لڑکیوں کو لاہور میں ڈیفنس کے علاقے میں‌ایک گھر سے بازیاب کیا گیا تو اغوا کاروں نے ابتدائی طور پر سنگاپور میں‌ غیرملکی لڑکیوں کو دیے گئے ہزاروں ڈالرز کے متعلق بتایا-

نیدرلینڈز اور سپین سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی پاکستانی شہریوں‌سے ملاقات سنگاپور میں‌ہوئی تھی-

پنجاب پولیس نے بیرون ملک سے ایک لڑکی کے والد کی جانب سے بیٹی کے اغوا کی اطلاع پر فوری کارروائی کی- فون کرنے والے شخص نے بتایا تھا کہ ان سے 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔

گرفتار ملزمان کو جمعے کو عدالت میں پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈمانگا کیا جائے گا- پولیس کے مطابق دیگر مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس حکام نے تصدیق کی کہ بازیاب ہونے والی ایک لڑکی کے والد نے سپین سے ہیلپ لائن ون فائیو پر کال کی تھی۔

دونوں لڑکیاں تین دن قبل پاکستان پہنچی تھیں‌اور لاہور اور اسلام آباد میں مختلف جگہوں پر دوستوں کے ساتھ گھومتی پھرتی رہیں-

، جس کے بعد تفتیش کاروں نے ہالینڈ اور سپین سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بازیاب کروایا۔

اس مقدمے کی ایف آئی آر لاہور کے تھانہ ڈییفنس سی میں درج کی گئی جس میں‌لکھا گیا ہے کہ مبینہ اغوا کا واقعہ 29 جون کو پیش آیا تھا، جبکہ پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دو جولائی کو ملی-

ایف آئی آر کے مطابق لڑکیوں کی ملاقات سنگاپور میں لاہور کے ایک شخص سے ہوئی تھی، جس نے نہ صرف دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی بلکہ ان کے لیے ویزے بھی حاصل کیے۔ بعد ازاں‌ اسی شخص نے اپنے باس کے ساتھ مل کر اُن کو اغوا کیا-

ایف آئی آر کے مطابق ’اغواکاروں‘ نے ان سے تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور ایک لڑکی کا متعدد بار ریپ کیا گیا۔

ایف آئی آر انگریزی زبان میں متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق لکھی گئی ہے۔

لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کو وزیراعلٰی مریم نواز نے دو گھنٹوں میں‌لڑکیوں کی بازیاب کے لیے کہا تھا-

دونوں لڑکیوں نے پاکستان پہنچنے کے بعد اپنے میزبانوں کے ہمراہ اور سفر کی تصاویر واٹس ایپ پر بیرون ملک اپنے خاندان سے شیئر کی تھیں جس کی وجہ سے پولیس نے ملزمان کو فوری طور پر ٹریس کیا-

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کا میڈیکل معائنہ بھی کروالیا گیا ہے اور جلد ہی اس کی رپورٹ بھی مل جائے گی۔

گرفتار ملزمان نے ابتدائی پولیس تفتیش میں‌ کہا ہے کہ لڑکیوں نے اُن سے ہزاروں ڈالر لے کر کرپٹو میں سرمایہ کاری کی ہے اور اب منافع دینے سے انکاری ہیں اس لیے اُن کو پاکستان سے واپس جانے سے روک رہے تھے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے