کیا ’اکیلا‘ کرسٹیانو رونالڈو پرتگال کو ورلڈ کپ جتوا سکتا ہے؟
علی ارقم، تجزیہ کار
مائیکل مورس ایک سوشل سائیکالوجسٹ اور کولمبیا یونیورسٹی کے استاد ہیں، جن کا کام انسانی رویوں، گروہی شناخت اور ثقافتی اثرات کے گرد گھومتا ہے، انہوں نے قبائلی (Tribal) کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے- اس کتاب میں وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جدید دنیا کی انفرادی معقولیت پسندی کی کہانی دراصل ایک فریب ہے، کیونکہ انسان زیادہ تر فیصلے اپنے گروہی تعلقات، سماجی نقالی (social imitation) یا میمکری (جیسے پاکستانی لبرل مغرب کی نقالی کرنے کی کوشش کرتے ہیں) اور اجتماعی ہیروز کی پیروی یا پرستش کے ذریعے کرتا ہے
کتاب کے دلائل اور مضامین دلچسپ سہی لیکن ان کا تذکرہ پھر کبھی، سردست ہمارا موضوع ہے فٹبال، دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی کے لیے اس کھیل کا واحد حوالہ اور شناخت شاید میسی اور رونالڈو ہیں-
پھر ان کی فین فالوونگ، ہیرو ورشپ، گریٹسٹ آف آل ٹائم (GOAT) کی بحث کو دیکھیں تو مورس کی قبائلیت کے بارے میں سارے دلائل کی جھلک مل جائے گی (جنہیں فٹبال میں دلچسپی نہیں وہ پاکستانی سوشل میڈیا سپیس، اسرائیل کے حمایتی مغرب نقالی، یا پولیٹیکل پارٹی سپورٹ میں اس کی جھلک ڈھونڈ لیں)، سالا سٹریم آف کانشسنیس-
آتے ہیں میسی اور رونالڈو کی جانب
ویسے قبائلیت کے ذیل میں رونالڈو بمقابلہ میسی کی بحث ایک کلاسک کیس اسٹڈی ہے۔ دونوں دراصل دو مختلف قبائلی ہیرو آرکیٹائپس (Archtypes) ہیں۔
رونالڈو کا قبیلہ سیلف میڈ یعنی انتہائی محنت سے پیداکردہ قابلیت (self-made excellence) کو سراہتا ہے، جہاں محنت، جسمانی یعنی فزیکل برتری، ڈسپلن اور برتری مرکزی اقدار ہیں
اس کے برعکس میسی کا قبیلہ خداداد صلاحیت (natural genius) اور تخلیقی صلاحیت کو اہمیت دیتا ہے، جہاں خوبصورت انداز، انسٹکنٹ اور کسی زیادہ مشقت سے عاری کمال (effortless brilliance) جس کا اظہار ہیں، یعنی میسی اتنی آسانی سے چمتکار دکھاتا ہے جیسے یہ اس کے لیے محض کھیل ہو-
اب دنیا بھر کی تقسیم جو ہے اسے ان دلائل کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ اکثر تو لوگ پہلے کسی کھلاڑی کے قبیلے کا حصہ بنتے ہیں اور پھر اس کے حق میں دلائل تلاش کرتے ہیں-
اپنے اردگرد، دوستوں یاروں کا اثر یا ان سے انفرادیت جتانے کا شوق انہیں ایک مخصوص گروپ کے ساتھ الائن (align) کردیتا ہے، جبکہ ہیرو کی پرستش میسی یا رونالڈو کو ایک علامتی حیثیت دیتی ہے جو ان کی اپنی خواہشات اور اقدار کی نمائندگی کرتی ہے۔
اس لیے رونالڈو بمقابلہ میسی کی بحث میں ڈیٹا، ٹرافی، انفرادی اعزازات، ایوراڈز ثانوی اہمیت اختیار کرجاتے ہیں کیونکہ اصل کام تو وابستگی کا ہے-
لیکن کیا کیا جائے کہ دونوں کھلاڑیوں کی شناخت پر استوار بلین ڈالر کمرشل مفادات کی انڈسٹری ہے، جیسے میسی آج کی یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کی فٹبال شفٹ کا پوسٹر بوائے ہے۔
امریکہ جو ایک عرصے تو رگبی (امریکن فٹبال) اور بیس بل کو منوانے میں لگا رہا، تھک ہار کر کچھ عرصے سے فٹبال پر فوکسڈ ہے، اپنی اوسط درجے کی فٹبال لیگ کو بہتر بنانے، انتہائی ناقص فٹبال انفراسٹرکچر (سٹیڈیم کی ٹرفس پر فرینڈلیز کے دوران کھلاڑی زخمی ہوجاتے تھے) کو بہتر بنانے اور اب ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے کے بعد میسی ان سب کا برانڈ امبیسیڈر ہے اس لیے ارجنٹینا کے میچز چھٹی کے دنوں (ہفتہ اتوار) ہوتے ہیں، میسی ایک خطرناک فاؤل کرکے بھی ریڈ کارڈ (بلکہ یلو کارڈ) سے بھی محفوظ رہتا ہے (خود امریکی کھلاڑی اور ان کا ٹاپ سکورر بالوگان کل ویسے ہی فاؤل کے باعث ریڈ کارڈ ہوگیا)، لیکن یہ سب باتیں میسی کی عظمت اور لیجنڈری حیثیت سے امریکہ کے فائدہ کشید کرنے کی کوشش ہے، میسی کی عظمت اور حیثیت پر اس سے کوئی فرق نہیں آتا، یہاں تک کہ بن یامین نیتن ہاہو کے ساتھ تصویر کھنچوانے پر بھی میسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا-
رونالڈو نے سعودیہ کا انتخاب کیا، ریشنل چوائس یعنی دو سو ملین سالانہ کا معاہدہ، ڈھلتی عمر میں کم شدت کی حامل لیگ اور سعودی امیج بلڈنگ کا پوسٹر بوائے، لیکن اپنی چوائسز میں زیادہ پرو ایکٹیو جیسے پیپسی کی جگہ پانی کا انتخاب کرکے خبر بنانا-
اب آتے ہیں ورلڈ کپ کی جانب، میسی ارجنٹینا کو ورلڈ کپ جتوا کر اور اس بار بھی شاندار کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھ کر ارجنٹینا کو ہاٹ فیورٹ بنا چکا ہے، قسمت بھی مہربان ہے جو حریف نسبتاً آسان ملے ہیں یعنی فائنل تک رسائی پکی ہے-
جہاں تک رونالڈو کا تعلق ہے پرتگال کی ٹیم کی مجموعی کارکردگی، کوچ مارٹینیز کی حکمت عملی اور رونالڈو کا انفرادی کھیل شدید تنقید کی زد میں ہے جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ
کیا رونالڈو پرتگال کو ورلڈ کپ جتوا سکتا ہے؟
یہ سوال صرف ٹیکٹیکل نہیں، اپنے اندر ایک عہد، ایک نفسیات اور ایک پوری تہذیبی تبدیلی کو سموئے ہوئے ہے۔
کیا ایک عظیم کھلاڑی اب بھی ایک عظیم ٹیم کو ورلڈ کپ جتوا سکتا ہے، یا جدید فٹبال اب اس مقام سے آگے نکل چکا ہے جہاں ایک فرد پورے نظام کا مرکز ہو؟
رونالڈو اب بھی فیصلہ کن لمحات میں جادو دکھانے والے کھلاڑی ہیں۔ باکس کے اندر ان کی موجودگی، پوزیشننگ اور فائنل ٹچ اب بھی میچ کا نتیجہ بدل سکتی ہے۔ لیکن جدید بین الاقوامی فٹبال میں سوال معاملہ صرف گول کرنے کا نہیں، سوال یہ ہے کہ ٹیم کس طرح حملہ آور ہوتی ہے؟
گول کیپر کے پہلے شارٹ پاس یا لانگ پاس سے بات شروع ہوتی ہے اور بلڈ اپ ہوتا ہے، ٹیم اسپیس کیسے پیدا کرتی ہے، مخالف ٹیم کے بیچ سے کیسے کھیلتی ہے اور پریشر میں اپنا سٹرکچر کیسے برقرار رکھتی ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں پرتگال کی موجودہ شناخت بار بار سوالات کی زد میں آتی ہے۔ ٹیم کے پاس دنیا کی بیسٹ مڈفیلڈ ہے، رائٹ اور لیفٹ بیک اور ونگز پر رفتار ہے، ون آن ون میں چکمہ دینے والے کھلاڑی ہیں، لیکن حملوں کا فوکس پوائنٹ ایک ہی رہتا ہے، یعنی کرسٹیانو رونالڈو، جو شاید اتنا غلط بھی نہیں، فٹبال ڈیٹا اب بھی انہیں بہترین فنشر مانتا ہے
لیکن جب مخالف ٹیمیں پریسنگ بڑھاتی ہیں اور لو بلاک کرکے اپنے باکس کے اندر اسپیس بند کرتی ہیں تو پرتگال کا حملہ پریڈکٹبل ہو جاتا ہے، مخالفین کو اندازہ ہوتا ہے کہ بال کہاں پھینکی جائے گی
ای بی ایل (EBL) ایک انتہائی ماہر ٹیکٹیشیئن کے مطابق یہی بنیادی مسئلہ ہے-
مسئلہ رونالڈو نہیں، مسئلہ اس سٹرکچ کا ہے جس کا محور و مرکز رونالڈو ہے۔ ان کے مطابق پرتگال کے پاس مڈفیلڈ میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ مختلف انداز سے حملہ کرسکتے ہیں، اس کی مثال چیمپئنز لیگ کی فاتح ٹیم کے کھیل میں دیکھی جاسکتی ہے جس میں پرتگال کے چار اہم کھلاڑی کھیلتے ہیں اور ان کے کھیل کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں
یہاں مسئلہ یہ ہے کہ پرتگال کی ٹیم بار بار ایک ہی پیٹرن پر واپس آ جاتی ہے۔ یہی بات کوچ رابرٹو مارٹینیز پر تنقید کا باعث ہے کہ وہ میچ کے اندر اپنی ٹیم کا سٹرکچر، فارمیشن اور حکمت عملی تبدیل کرنے میں کم لچک دکھاتے ہیں وہ رونالڈو کے ایک واحد یا مخصوص استعمال پر اصرار کرتے ہیں یا ان کے رجحان کے مطابق کھیلتے ہیں
رونالڈو کا مسئلہ کیا ہے؟
دراصل آج کے جدید فٹبال میں، پھر ٹیموں (چاہے قومی ٹیم ہو یا کلب) کی کوالٹی اور معیار میں بہت زیادہ گیپ کے باعث آج کل اسٹرائیکر یعنی فارورڈ کا کام صرف گول سکور کرنا نہیں رہا
وہ “اسپیس جنریٹر” بھی ہے۔ ارلنگ ہالینڈ اس بحث کی عمدہ مثال ہیں، ایک غیر معمولی گول اسکورر، جنہیں روکنا تقریباً نا ممکن ہے، لیکن جب مخالف ٹیم کا دفاع انہیں گھیر لے، انہیں بال ٹچ کرنے سے روکنے میں کامیاب ہو تو وہ ناکام رہتے ہیں-
دوسری مثال سوئیڈش کھلاڑی وکٹر گیوکوریز کی ہے، آرسنل کیلئے کھیلتے ہوئے وہ پرتگال کی لیگ کی طرح بہت زیادہ گول سکور نہ کرسکے کیونکہ پریمیئر لیگ کی ٹیمیں انہیں دو کھلاڑیوں سے مارک کیے رکھتی، لیکن وہ کیا کرتے وہ اگر گول نہ بھی کرتے تو حملے کے وقت اپنی حرکت سے دفاعی لائن کو توڑتے، سینٹر بیکس ان کا پیچھا کرتے اور اپنی پوزیشن چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے اور ٹیم کے باقی کھلاڑیوں کیلئے حملے کی سپیس پیدا ہو جاتی۔ اس کو فٹبال کی زبان میں “گریویٹی ایفیکٹ” کہتے ہیں جو جدید فٹبال میں قیمتی سمجھا جاتا ہے۔
اپنے عروج کے دور میں رونالڈو بھی یہی کردار ادا کرتے تھے۔ وہ صرف باکس کے اندر موجود نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنی حرکت، چینل رنز اور دفاعی لائن کے پیچھے دوڑ سے پورے نظام کو بدل دیتے۔ آج بھی ان کی موجودگی ڈیفینڈرز کو اپنی طرف کھینچتی ہے، لیکن یہ اثر اب زیادہ محدود ہوچکی ہے۔
کانگو کے خلاف میچ میں ان پر تھیری ہنری نے یہی تنقید کی کہ وہ گول کرنے کی فرسٹریشن میں باکس کے اندر اپنی موومنٹ سے دوسرے کھلاڑیوں کے لیے سپیس پیدا کرنے کے بجائے موقع کو خراب کرنے کا باعث بنتے رہے، اگلے میچ میں نسبتاً آسان حریف کے مقابل وہ کامیاب رہے، اسی طرح کولمبیا بھی انہیں غیر مؤثر رکھنے میں کامیاب رہا
جدید فٹبال کی سمت بہت واضح ہے، اجتماعی یعنی ٹیم ورک، متحرک یعنی بال کے ساتھ اور بال کے بغیر حرکت اور غیر متوقع حملوں کا انداز،
یہی ماڈل آج کی فرانسیسی ٹیم میں بھی نظر آتا ہے جہاں ونگرز، مڈفیلڈرز اور فارورڈز مسلسل جگہ بدلتے ہیں اور دفاع کو غیر مستحکم رکھتے ہیں۔
کلب فٹبال میں دو بار کی یورپیئن چیمپیئن پیرس سینٹ جرمین اس تبدیلی کی ایک واضح مثال ہے۔ عثمان ڈیمبیلے اور مسلسل پوزیشن بدلنے والی فرنٹ لائن نے ٹیم کو ایک “فکسڈ سپر اسٹار ماڈل” سے نکال کر ایک “فلوئڈ سسٹم” میں بدل دیا۔
پیرس کو کامیابی تب ملی جب میسی، نیمر اور ایمبیپے کو رخصت کیا، کیونکہ آج کے فٹبال میں اٹیکنگ نظام ایک کھلاڑی کے گرد نہیں گھومتا بلکہ پورے یونٹ کی حرکت سے پیدا ہوتا ہے۔
یہ سب بحث آخرکار پرتگال اور رونالڈو پر واپس آتی ہے۔
کیا وہ اب بھی میچ جتوا سکتے ہیں؟ یقیناً۔
کیا وہ اب بھی فیصلہ کن لمحے پیدا کر سکتے ہیں؟ بلا شبہ۔
لیکن کیا ایک جدید ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم اب بھی ان کے گرد مکمل طور پر تعمیر ہو سکتی ہے؟ یہی اصل سوال ہے۔
اب آتے ہیں آج کے میچ کی جانب،
پرتگال بمقابلہ کروشیا آج کے راؤنڈ آف 32 میں مقابل ہیں-
کروشیا ایک منظم، کمپیکٹ اور تجربہ کار ٹیم ہے جو میچ کو اپنی رفتار پر لا کر کھیلتی ہے۔ لوکا موڈرچ (Luka Modrić) کی قیادت میں وہ مڈفیلڈ کنٹرول اور تحمل پر مبنی فٹبال کھیلتے ہیں۔ ان کا مقصد میچ کو کلوز رکھ کر کے مخالف ٹیم کی غلطی کا انتظار کرنا ہے۔
اس کے برعکس پرتگال ایک ایسی ٹیم ہے جس کے پاس انفرادی معیار تو غیر معمولی ہے، لیکن اٹیک رونالڈو سینٹرک ہے، اگر پرتگال کا اٹیک پریڈکٹیبل (predictable) رہا تو کروشیا کا منظم دفاع اور مڈفیلڈ کنٹرول انہیں فرسٹریٹ (frustrate) کر سکتا ہے اور رونالڈو کو نیوٹرلائز (neutralize) کر سکتا ہے۔
اس میچ میں اصل جنگ مڈفیلڈ کی ہے، پرتگال کی کریٹویٹی بمقابلہ کروشیا کا سٹرکچرل ڈسپلن۔
اگر برونو، جاؤ نیویز، ویٹینیا (Vitinha، Bruno Fernandes اور João Neves) میچ کا سلو ٹیمپو (tempo) توڑ سکے اور پرتگال کھل کر کھیل سکا تو جیت کے امکانات روشن ہیں، لیکن اگر موڈرچ اور اس کا یونٹ کھیل کو سلو اور کنٹرولڈ رکھنے میں کامیاب رہے تو پرتگال کیلئے مشکل بڑھ جائے گی
یہی وہ لمحہ ہے جہاں رونالڈو کا قائدانہ کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے، جب وہ فنشنگ کیلئے پاس کا انتظار کرنے کے بجائے سپیس جنریٹر بن سکیں، تو رفائل لیاؤ۔ پیڈرو نیٹو، ٹرنکاؤ، برنارڈو سلوا، راموس، کانسے ساؤ جیسے کھلاڑی ان سپیسز میں گھس کر تباہی مچا سکتے ہیں-
ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رونالڈو کو میچ کے دوسرے ہاف میں لایا جائے جب پرتگال ایک دو گول کی برتری حاصل کرپائے اور کروشیا کی ٹیم سروائیول کیلئے کھل کر کھیلنے لگ جائے تو رونالڈو دفاعی لائن کے پیچھے حملہ آور ہوکر اپنی روایتی فنشنگ سے کھیل کو کروشیا کی گرفت سے مزید دور لے جاسکتے ہیں-
لیکن اگر کروشیا پہلے ایک آدھ گول کرنے میں کامیاب ہوا تو پرتگال کو اپنے دفاعی ڈسپلن سے تگنی کا ناچ نچا سکتا ہے-

