اہم خبریں

انڈین پنجاب میں‌سکھوں کے خلاف تشدد پر مبنی فلم سلتج کی نمائش روک دی گئی

جولائی 7, 2026

انڈین پنجاب میں‌سکھوں کے خلاف تشدد پر مبنی فلم سلتج کی نمائش روک دی گئی

انڈین پنجاب میں‌سنہ 1995 کے دوران اغوا اور قتل کیے گئے انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر بنائی گئی فلم ستلج کو زی5 سے ریلیز کے دو دن بعد ہی ہٹا لیا گیا ہے-

سوشل میڈیا پر انڈیا میں‌انسانی حقوق کے کام کرنے والے افراد، سول سوسائٹی اور سکھ مذہب کو ماننے والوں نے فلم کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹانے پر شدید تنقید کی ہے-

اداکار دلجیت دوسانجھ کی فلم کو 48 گھنٹوں کے اندر ہی او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی5 سے ہٹانے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی ایک بڑی تعداد اس تنازع پر بات کر رہی ہے۔

فلم ’ستلج‘ 3 جولائی کو ریلیز ہوئی تھی، لیکن اسے 5 جولائی کو پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا اور اس کی وجہ نہیں‌ بتائی گئی۔

زی5 نے فلم کو ہٹانے کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ ’ستلج روک دی گئی لیکن اس سے شروع ہونے والی بحث جاری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اسے جلد ہی آپ تک واپس لایا جائے گا۔‘

بیان میں فلم کو ہٹانے کی وجہ سے متعلق خاموشی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا نے انڈین پنجاب میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

فلم کے مرکزی اداکار دلجیت دوسانجھ نے کہا ہے کہ اب اس فلم کو روکا نہیں جا سکتا اور ’خالڑا صاحب کی آواز کو کوئی نہیں دبا سکتا۔‘

اس فلم کو سنہ 2025 میں‌نمائش کے لیے پیش کیا جانا تھا مگر ڈیڑھ سال کی تاخیر ہوئی- دلجیت دوسانجھ نے گزشتہ برس یعنی 2025 کے پہلے دن انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کو بھی خوش آئند آغاز قرار دیا تھا اور اُن کے پوسٹ اب بھی ایکس پر پِن ہے-

تاہم اس کے باوجود اُن کی فلم پر انڈیا کے سنسر بورڈ نے بہت زیادہ اعتراضات کیے تھے- پہلے اس فلم کا نام گھلوگھارا یعنی نسل کشی تھا جس کو بعد میں‌ پنجاب95 کر دیا گیا، تاہم نمائش کی اجازت نہ ملنے پر اس کا نام بدل کر ستلج رکھ دیا گیا-

فلم میں‌ انڈین پولیس کے سکھ کمیونٹی کے خلاف تشدد کو دکھایا گیا ہے اور سکھ نوجوانوں کے قتل عام اور ان کی لاشوں کو دریا میں‌ پھینکنے کی منظر کشی کی گئی ہے-

اس تشدد اور پولیس کی دہشت گردی کے خلاف جاندار سکرپٹ اور مکالمے شامل ہیں جبکہ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کو پولیس کے غیرقانونی اقدامات کے خلاف آواز بلند کرتے دکھایا گیا ہے-

فلم میں‌زیادہ تر سکھ پولیس اہلکاروں کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف اس تشدد میں‌حصہ لیتے فلمایا گیا ہے-

انڈین تفتیش کاروں کے ریکارڈ کے مطابق جسونت سنگھ خالڑا کو 6 ستمبر 1995 کو امرتسر کے کبیر پارک میں واقع ان کے گھر سے اغوا کیا گیا تھا۔ اور اس کے بعد وہ کبھی گھر واپس نہیں لوٹے۔

انڈیا کی سینٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن (سی بی آئی) نے عدالت میں تسلیم کیا تھا کہ جسونت سنگھ خالڑا انسانی حقوق کے کارکن تھے اور شرومنی اکالی دل کے انسانی حقوق سیل کے جنرل سیکریٹری رہ چکے تھے۔

سی بی آئی کے عدالت میں‌ جمع کرائے گئے بیان میں‌ کہا گیا تھا کہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں پنجاب میں انتہاپسندی کی لہر کے دوران پولیس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں، شہریوں سے زیادتیوں، حراست میں اموات اور مبینہ فرضی پولیس مقابلوں کے واقعات کی وجہ سے ریاست خبروں میں‌رہی اور اسی طرح جسونت سنگھ خالڑا بھی اس کے خلاف سرگرم رہے-

انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا نے جون 1984 سے دسمبر 1994 کے درمیان امرتسر، مجیٹھا اور ترنتارن کے تین شمشان گھاٹوں میں ملنے والی نامعلوم لاشوں کی تفصیلات عام کی تھیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ یہ لاوارث لاشیں پولیس کی غیر قانونی کارروائیوں کی گواہ ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے