اہم

بلوچستان کے ضلع زیارت میں مسلح افراد کے حملے میں 9 پولیس اہلکار ہلاک

جولائی 7, 2026

بلوچستان کے ضلع زیارت میں مسلح افراد کے حملے میں 9 پولیس اہلکار ہلاک

بلوچستان کے ضلع زیارت میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم 9 پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔
اس واقعے کے خلاف گذشتہ رات سے ضلع پشین میں خانوزئی کے مقام پر نیشنل ہائی وے پر احتجاج کیا جا رہا ہے، جہاں مظاہرین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد علاقے میں آئی اور 20 سے زائد پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔

مظاہرین کے مطابق تقریباً پانچ اہلکار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ دیگر کو مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے-

صوبائی حکومت کے ایک عہدیدار کے مطابق حملہ ضلع زیارت میں زیرتعمیر مانگی ڈیم کے علاقے میں کیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے اہلکار مانگی ڈیم کے فیز تھری کے تعمیراتی مقام پر تعینات تھے۔

حملے میں دو تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت کم از کم نو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بعض اہلکار لا پتہ بھی ہیں۔

اگست 2021 میں یہاں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں لیویز فورس کے تین اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق کی جانب تقریباً 85 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع زیارت اور ضلع ہرنائی کے سرحدی علاقے میں واقع مانگی کے علاقے میں‌کیے گئے اس حملے کی ذمہ داری تا حال کسی گروہ نے قبول نہیں کی-

دوسری جانب سرکاری طور پر بھی اس حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

صوبائی حکومت کوئٹہ کو پانی پہنچانے کے لیے اس علاقے میں اربوں روپے کی لاگت سے ڈیم تعمیر کر رہی ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے