عالمی خبریں

نیشنل پریس کلب واشنگٹن ڈی سی کا غیرملکی صحافیوں پر نئی ویزا پابندیاں واپس لینے کا مطالبہ

جولائی 21, 2026

نیشنل پریس کلب واشنگٹن ڈی سی کا غیرملکی صحافیوں پر نئی ویزا پابندیاں واپس لینے کا مطالبہ

واشنگٹن: سید فیصل علی

واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل پریس کلب نے امریکی محکمۂ داخلی سلامتی (DHS) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی صحافیوں کے ویزوں پر عائد نئی پابندیاں فوری طور پر واپس لے، خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف عالمی سطح پر صحافتی آزادی کو نقصان پہنچائیں گے بلکہ امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی متاثر کریں گے۔

جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں نیشنل پریس کلب کے صدر مارک شوف جونیئر نے کہا کہ نئی پالیسی، جس کے تحت غیر ملکی صحافیوں کے امریکہ میں قیام کی مدت کو مقررہ مدت تک محدود کیا گیا ہے، امریکہ کی آزاد اور خودمختار صحافت کی دیرینہ روایت سے انحراف ہے۔

انہوں نے کہا کہ “غیر ملکی نامہ نگاروں کو امریکہ میں آزادانہ طور پر کام کرنے اور رپورٹنگ کرنے کی اجازت دینا ہمیشہ سے امریکی آزاد صحافت کی روایت کا حصہ رہا ہے۔ نئی اور سخت ویزا پابندیاں نافذ کر کے امریکہ عالمی سطح پر صحافتی آزادی کے علمبردار اور خطرات سے دوچار صحافیوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر اپنی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا رہا ہے۔”

نیشنل پریس کلب نے DHS پر زور دیا کہ وہ اس پالیسی کو واپس لے اور خبردار کیا کہ ان ویزا پابندیوں کو امریکی حکومتی پالیسیوں یا حکام پر تنقیدی رپورٹنگ کرنے والے غیر ملکی صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

نئے ضوابط کے مطابق I ویزا رکھنے والے بیشتر غیر ملکی صحافی زیادہ سے زیادہ 240 دن تک امریکہ میں قیام کر سکیں گے، جبکہ چینی شہریوں کے لیے یہ مدت 90 دن مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد مزید حکومتی جانچ پڑتال اور توسیع کی منظوری درکار ہوگی۔

بیان میں کہا گیا کہ ان پابندیوں کے باعث غیر ملکی نامہ نگاروں کے لیے امریکہ میں طویل المدتی رپورٹنگ کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ پریس کلب کے مطابق ویزا کی تجدید سے متعلق غیر یقینی صورتحال صحافیوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ وہ اپنی امیگریشن حیثیت برقرار رکھنے کے لیے حساس یا تنقیدی رپورٹنگ سے گریز کریں۔

نیشنل پریس کلب نے مزید خبردار کیا کہ اس پالیسی کے جواب میں دیگر ممالک بھی امریکی صحافیوں پر اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں، جس سے بیرونِ ملک کام کرنے والے امریکی نامہ نگاروں کے لیے رپورٹنگ مزید مشکل اور غیر محفوظ ہو سکتی ہے۔

بیان میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ امریکی صحافی پہلے ہی چین جیسے ممالک میں بار بار ویزا پابندیوں اور دیگر رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں آزاد صحافت شدید دباؤ کا شکار ہے۔

بیان کے اختتام پر نیشنل پریس کلب نے کہا کہ “آزاد صحافت امریکہ کی سرحدوں تک محدود نہیں۔ امریکہ میں موجود ہر صحافی، خواہ اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو، آزادانہ طور پر رپورٹنگ کرنے کا حق رکھتا ہے۔”

واضح رہےٹرمپ انتظامیہ نے امریکی امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے غیر ملکی طلبہ، ایکسچینج پروگرام کے شرکاء اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے رائج “ڈیوریشن آف اسٹیٹس (Duration of Status)” نظام ختم کر دیا ہے۔

امریکی محکمۂ داخلی سلامتی (DHS) کی جانب سے جاری کیے گئے حتمی ضوابط کے مطابق اب F (طلبہ)، J (ایکسچینج وزیٹر) اور I (غیر ملکی میڈیا) ویزا رکھنے والوں کو غیر معینہ مدت کے بجائے مقررہ مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت ہوگی۔ محکمۂ داخلی سلامتی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا فراڈ کی روک تھام کرنا اور غیر تارکینِ وطن ویزا ہولڈرز پر وفاقی نگرانی بحال کرنا ہے۔

ڈی ایچ ایس کے سیکریٹری مارک وین ملن نے کہا کہ تقریباً نصف صدی سے رائج “ڈیوریشن آف اسٹیٹس” نظام نے قومی سلامتی کو کمزور کیا اور امیگریشن فراڈ کے لیے مواقع پیدا کیے۔ ان کے مطابق بعض غیر ملکی طلبہ مسلسل نئے تعلیمی پروگراموں میں داخلہ لے کر امریکہ میں غیر معینہ مدت تک قیام کرتے رہے۔

نئے ضوابط کے تحت F اور J ویزا رکھنے والوں کو صرف اپنے منظور شدہ تعلیمی یا ایکسچینج پروگرام کی مدت تک، زیادہ سے زیادہ چار سال کے لیے امریکہ میں رہنے کی اجازت ہوگی۔

اگر کسی طالب علم کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہو تو اسے براہِ راست امریکی شہریت و امیگریشن سروس (USCIS) سے ایکسٹینشن آف اسٹی (Extension of Stay) کی درخواست دینا ہوگی۔ اس عمل کے دوران بائیومیٹرک تصدیق، پس منظر کی جانچ اور فراڈ کی جانچ پڑتال کی جائے گی، جس سے نگرانی کا اختیار تعلیمی اداروں سے وفاقی حکومت کو منتقل ہو جائے گا۔

نئے قواعد کے مطابق F-1 طلبہ کے لیے تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے، تعلیمی ادارہ تبدیل کرنے یا امیگریشن اسٹیٹس تبدیل کرنے کی مہلت 60 دن سے کم کر کے 30 دن کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی پروگرام تبدیل کرنے کے قواعد بھی مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

ڈی ایچ ایس کے مطابق یہ حتمی ضابطہ جلد فیڈرل رجسٹر میں شائع کیا جائے گا اور اشاعت کے 60 دن بعد نافذ العمل ہوگا۔

محکمۂ داخلی سلامتی نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکہ میں “ڈیوریشن آف اسٹیٹس” کے تحت موجود F، J اور I ویزا رکھنے والے افراد بھی خودکار طور پر نئے نظام میں منتقل ہو جائیں گے اور ضابطے کے نافذ ہونے کی تاریخ سے ان کے قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت چار سال ہوگی۔

ڈی ایچ ایس کا کہنا ہے کہ اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام (SEVP)، جو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے تحت کام کرتا ہے، SEVIS نظام کے ذریعے تعلیمی اداروں، بین الاقوامی طلبہ، ایکسچینج وزیٹرز اور ان کے زیر کفالت افراد کی نگرانی جاری رکھے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے