گلیشیئر ٹوٹنے کے باعث نیپال میں سیلاب سے 165 ہلاک، 529 سیاحوں سمیت 800 افراد لاپتہ
نیپال اور تبت میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بڑے پیمانے پر ہنگامی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نیپال کی قومی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) نے اب تک کم از کم 165 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
اتھارٹی کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 529 سیاحوں سمیت 826 افراد لاپتا ہیں۔
متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے ایک سیاحتی گروپ کا کہنا ہے کہ 47 افراد، جن میں گائیڈز اور سیاح شامل ہیں، سیلاب آنے کے بعد سے لاپتا ہیں اور ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے گیرونگ کاؤنٹی میں لاپتا افراد کی تعداد 558 ہو گئی ہے، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ آیا اس اعداد و شمار میں ان افراد کی دوبارہ گنتی تو نہیں کی گئی جنھیں نیپال کے لاپتا افراد کے اعداد و شمار شامل کیا گیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق سیلاب ایک گلیشیئر کے ٹوٹ کر گرنے اور ملبے کے دریا میں بہاؤ کے باعث آیا، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔
نیپالی فوج نے دو ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے ہیں جو زمینی اور فضائی سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔
چینی حکام کے مطابق تبت کی جانب غیریقینی موسمی حالات اور علاقے کا دشوار گزار اور دور دراز جغرافیہ امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔