پمز ہسپتال کے عملے کے ارکان اسمبلی کی کمیٹی کو آتشزدگی کی وجہ پر متضاد بیانات
پاکستان کی قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے صحت کے ارکان نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال کا دورہ کیا جہاں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں گذشتہ روز آتشزدگی کے باعث 14 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔
جمعرات کے روز اس دورے کے بعد کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ نرسری میں لگے ایک پرانے اے سی سے سپارک نکلا جس سے آگ لگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عملے کے بعضافراد نے بتایا کہ وہ اے سی کافی عرصے سے بند تھا جبکہ وہاں لگے دیگر دو اے سی پورٹیبل تھے۔
ڈاکٹر مہیش کا کہنا تھا کہ انھیں عملے کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہاں تاروں کا ایک گچھا تھا جس سے آگ لگی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عملے کی جانب سے دیے گئے متضاد بیانات کی بنیاد پر کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ فی الوقت کسی کو آگ کے ذریعے کا نہیں پتا۔
جے یو آئی کی رکن کمیٹی عالیہ کامران کا کہنا تھا کہ عملے کے بیانات سے ایسا تاثر ملا جیسے انھیں بتایا گیا ہو کہ انھوں نے کیا کہنا ہے۔ ’ایک نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ جیسے اے سی میں دھماکہ ہوا اور اس سے آگ لگی۔‘
ڈاکٹر مہیش کا کہنا تھا کہ جس نرسری میں آگ لگی وہ 1990 میں بنی تھی جبکہ دوسرا وارڈ نیا بنا ہوا ہے۔ ’ہماری رائے ہے کہ نرسری نئے بلاک میں ہونی چاہیے تھی۔‘
’یہ نرسری بچوں کو رکھنے کے لیے فٹ نہیں تھی، یہاں گائنی کا وارڈ ہونا تھا۔‘
کمیٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور عملے کی جانب سے جس طرح کے متضاد بیانات دیے جا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ یا تو وہاں کوئی ڈیوٹی پر نہیں تھا یا پھر جو ڈیوٹی پر تھے وہ اس جگہ پر موجود نہیں تھے۔

